زبان: اردو

بوتل کا دودھ پلانا، بازاری فارمولا دودھ یا گائے وغیرہ کا دودھ بچے کے لیے مضر صحت ہے۔

بوتل کا دودھ پلانے اور بچے کو ماں کے دودھ کے متبادل کے طور پر کوئی بازاری فارمولہ دودھ یا گائے وغیرہ کا دودھ دینے سے بچے کی صحت اور بقاء کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں ۔ اگرکوئی عورت اپنے شیر خوار بچے کو اپنا دودھ نہیں پلا سکتی، تو ماں بچے کو اپنے ہاتھ سے اپنا دودھ نکال کرپلا سکتی ہے یا ، اگر ضروری ہوتو، کسی صاف ستھری پیالی کے ساتھ ماں کے دودھ کا کوئی معیار ی متبادل دودھ پلا سکتی ہے۔

وہ بچے جنہیں ماں کا دودھ میسر نہیں آتا ،امراض کے خلاف وہ تحفظ حاصل نہیں کر پاتے، ان بچوں میں دستوں کی بیماری، اورسانس اورکان کے انفیکشنز پیدا ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں ۔ دستوں کی بیماری اور سانس کے انفیکشنز، جیسا کہ نمونیہ، شیر خوار اور چھوٹے بچوں کے لئے مہلک ہو سکتے ہیں۔

بچے کو ماں کے دودھ کا کوئی متبادل فیڈ کرانے سے بچے کی افزائش میں کمی واقع ہو سکتی ہے یا وہ بیمار پڑ سکتا ہے۔

بچوں کو ماں کے دودھ کے متبادل فیڈز دینا مہنگا پڑ سکتا ہے۔

اگر بچے کو فارمولہ دودھ پلانا ضروری ہو، تو یہ بات اہم ہو گی کہ پہلے پینے کے صاف پانی کو ابالا جائے اور پھر اس گرم پانی کو پاؤڈر کے فارمولہ دودھ میں شامل کیا جائے۔ اس طرح اس بات کو یقینی بنایا جا سکے گا کہ فارمولہ دودھ اور محفوظ پانی کی درست مقدار کو مکس کیا گیا ہے اور یہ کہ یہ عمل صاف ستھرا ہے۔

بوتل فیڈنگ سے پیالی کے ساتھ فیڈنگ کرانا زیادہ محفوظ ہے کیوں کہ کپ کو صابن اور پانی کے ساتھ اچھی طرح صاف کیا جا سکتا ہے۔ پیالی سے فیڈ کرانے سے بچے سے رابطہ قائم رہتا ہے اور بچے کی ضروری حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے۔

وہ بچے جو براہ راست چھاتی سے ماں کا دودھ نہیں پی سکتے ، ان کے لئے ماں کا ہاتھ سے نکالا گیا دودھ بہترہے جو انہیں ایک صاف برتن سے ایک کھلے منہ کی پیالی میں انڈیل کر اس پیالی سے فیڈ کرایا جاتا ہے۔

The Internet of Good Things