زبان: اردو

ہر ماں کامیابی سے بچے کو اپنا دودھ پلا سکتی ہے۔

تقریباً ہر ماں کامیابی سے بچے کو اپنا دودھ پلا سکتی ہے۔ بچے کو باربار اپنا دودھ پلانا دودھ کی پیداوار میں مزید اضافے کی وجہ بنتا ہے۔ بچے کو مطالبے پر دن اور رات کے دوران کم از کم آٹھ مرتبہ ماں کا دودھ پلانا چاہیئے۔

ماں کی چھاتیاں اتنا ہی دودھ پیدا کرتی ہیں جتنی بچے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر بچہ زیادہ چوستا ہے، تو زیادہ دودھ پیدا ہوتا ہے۔ تقریباً ہر ماں بچے کو پلانے کے لئے کامیابی سے دودھ کی مناسب مقدار پیدا کرسکتی ہے، جب:

• بچے کو صرف اپنا دودھ پلارہی ہو۔ • بچے کی پوزیشن درست ہو اور اسے چھاتی سے اچھی طرح اس طرح چمٹایا گیاہو کہ چھاتی کا نپل اچھی طرح بچے کے منہ میں ہو۔ • بچہ (یا بچی) رات سمیت جتنی مرتبہ چاہے اور جتنی دیر تک چاہے فیڈ لیتا رہتا ہے اور اسے اس وقت تک چھاتی پر رکھا جاتا ہے جب تک کہ وہ دودھ چوسنا بند نہیں کر دیتا۔ بچے کو اچھی پوزیشن میں رکھنے سے بچے کے لئے چھاتی کو اچھی طرح اپنے منہ میں لے کر دودھ چوسنا آسان ہو جاتا ہے۔ علامات کہ بچہ ماں کا دودھ پینے کے لئے اچھی پوزیشن میں ہے: • بچے کا سر اور جسم ایک ہی لائن میں ہیں ۔ • بچہ ماں کے جسم سے درست طور پر چمٹا ہوا ہے۔ • بچے کا پورا جسم ماں کی جانب جھکا ہواہے۔ • بچہ پرسکون اور خوش ہے، اور اچھی طرح دودھ چوس رہا ہے۔ بچے کو خراب پوزیشن میں رکھنے سے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں ، جیسا کہ: • نپلز میں سوجن پیدا ہونا اور ان کاپھٹ جانا۔ • بچے کو کافی مقدار میں دودھ حاصل نہیں ہو رہا۔ • بچہ دودھ پینے سے انکار کر دیتا ہے۔ علامات کہ بچہ اچھی طرح چمٹایا گیا ہے: • ماں کے نپل کے گرد رنگین دائرے کا زیادہ حصہ بچے کے منہ کے نچلے حصے کی بجائے اوپری حصے پر دیکھا جا سکتا ہے۔ • بچے کامنہ پوری طرح کھلا ہوا ہے۔ • بچے کا نچلا ہونٹ باہر کی جانب نکلا ہوا ہے۔ • بچے کی تھوڑی ماں کی چھاتی کو چھو رہی ہے۔ علامات کہ بچہ دودھ اچھی طرح چوس رہا: • بچہ کے چوسنے کا عمل لمبا اور گہرا ہے۔ • چوستے ہوئے بچے کے گال گولائی اختیار کرلیتے ہیں ۔ • چوسنے کا عمل ختم ہو جائے تو بچہ چھاتی چھوڑ دیتا ہے۔

عموماً، ماں بچے کو اپنا دودھ پلاتے ہوئے چھاتی میں کوئی درد محسوس نہیں کرتی۔

پیدائش کے بعد سے ہی، بچے (یا بچی) کو اس کی خواہش پر ماں کا دودھ پلانا چاہیئے ۔ بچے کو دن اور رات کے دوران 24گھنٹوں میں بچے کے مطالبے پر کم از کم آٹھ باردودھ پلانا چاہیئے۔ اگر بچہ ماں کادودھ پینے کے بعد تین سے زائد گھنٹے کے لئے سوتا رہے، تو اس بچے (یا بچی) کو آرام سے جگا کر دودھ پلانے کے لئے چھاتی پیش کرنی چاہیئے۔

پیسیفائر یا چوسنی (بچے کے چبانے کا آلہ)، ڈمی بچے اور بوتل کا استعمال بچے کی زندگی کے پہلے ماہ میں ماں کا دودھ پلانے کے عمل میں خلل پیداکر سکتا ہے، کیوں کہ ان تینوں کا چوسنے کا عمل چھاتی چوسنے سے مختلف ہے۔ ممکن ہے کہ بچہ بوتل کے نپل یا پیسیفائر کا عادی ہو جائے اور چھاتی سے دودھ پینے سے انکارکردے۔ اس سے چھاتی سے دودھ چوسنے کے وقت میں کمی واقع ہو گی جس کی وجہ سے دودھ کی پیداوار کم ہو جاتی ہے۔ پیسیفائر اور بوتل کا نپل آلودہ بھی ہو سکتا ہے، جس سے بچے کے بیمار پڑنے کے خطرے میں اضافہ ہو جائے گا۔

The Internet of Good Things