زبان: اردو

ابتدائی برس، خصوصاً زندگی کے پہلے تین سال، بچے کے ذہن کی نشوونماء کے لئے بہت اہم ہوتے ہیں۔ جو کچھ بھی بچہ (یا بچی) دیکھتا، چھوتا، چکھتا، سونگھتا یا سنتا ہے اس کے لئے سوچنے، محسوس کرنے، حرکت کرنے اور س

ابتدائی برس، خصوصاً زندگی کے پہلے تین سال، بچے کے ذہن کی نشوونماء کے لئے بہت اہم ہوتے ہیں۔ جو کچھ بھی بچہ (یا بچی) دیکھتا، چھوتا، چکھتا، سونگھتا یا سنتا ہے اس کے لئے سوچنے، محسوس کرنے، حرکت کرنے اور سیکھنے کے لئے ذہن کو کوئی شکل دینے میں مدد ملتی ہے۔

ابتدائی برس، خصوصاً زندگی کے پہلے تین سال، بچے کے ذہن کی نشوونماء کے لئے بہت اہم ہوتے ہیں۔ جو کچھ بھی بچہ (یا بچی) دیکھتا، چھوتا، چکھتا، سونگھتا یا سنتا ہے اس کے لئے سوچنے، محسوس کرنے، حرکت کرنے اور سیکھنے کے لئے ذہن کو کوئی شکل دینے میں مدد ملتی ہے۔

بچے کا ذہن زندگی کے پہلے پانچ سالوں، خصوصاً ابتدائی تین سالوں میں، بڑی تیزی سے نشوونماء پاتا ہے۔ یہ مدبرانہ، لسانی، سماجی، جذباتی اور موثر اور تیز نشوونماء کا وقت ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر بچہ 18-15 ماہ کے قریب بہت سے الفاظ سیکھنا شروع کردیتا ہے۔ تیزی سے بولنا سیکھنے کا عمل قبل از اسکول برسوں میں جاری رہتا ہے۔

جب بچہ (یا بچی) دیکھتا ہے، محسوس کرتا ہے، چکھتا ہے، سونگھتا ہے اور سنتا ہے تو اس کا ذہن نشوونماء پاتا ہے۔ ہر مرتبہ بچہ ان احساسات میں سے کسی ایک کو استعمال کرتا ہے، جو بچے کے دماغ میں اعصابی رابطہ پیدا کرتے ہیں۔ نئے تجربات کو بار بار دہرانے سے نئے رابطے بنانے میں مدد ملتی ہے، جو اس انداز کو ترتیب دیتے ہیں جن میں بچہ اب اور مستقبل میں سوچتا، محسوس کرتا، سلوک کرتا اور سیکھتا ہے۔

بچے اور دیکھ بھال کرنے والے کے درمیان ایک گہرا رشتہ بچے کی پرورش اور ذہنی نشوونماء کا ایک بہترین انداز ہے۔ جب کوئی دیکھ بھال کرنے والا/ والی اس کے ساتھ کھیلتی ہے، گنگناتی ہے، اس کے ساتھ بات کرتی ہے، اسے کہانی سناتی ہے، صحت مند خوراک کے ساتھ اس کی پرورش کرتی ہے، پیار اور محبت کے جذبات کا اظہار کرتی ہے، تو بچے کے ذہن کی نشوونماء ہوتی ہے۔ صحت مند ہونے کی وجہ سے، دیکھ بھال کرنے والی کے ساتھ باہمی تعاون اور ایک محفوظ اور صاف ماحول میں رہنے سے بچے کی افزئش، ذہنی و جسمانی نشوونماء اور مستقبل کی صلاحیتوں میں ایک بڑا فرق پڑتا ہے۔

بچے کو ابتدائی برسوں میں بہت زیادہ دیکھ بھال اور محبت کے اظہار کی ضرورت ہوتی ہے۔ بچے کو پکڑنے، چمٹانے اور اس سے بات کرنے سے بچے کی ذہنی نشوونماء میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کی جذباتی نشوونماء کو فروغ ملتا ہے۔ ماں کی جانب سے اپنے ساتھ چمٹانے اور مطالبے پر اپنا دودھ پلانے سے شیر خوار بچے کو جذباتی تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ بچہ غذا اور تسکین دونوں کے حصول کے لئے دودھ چوستا ہے۔

رونا چھوٹے بچوں کے لئے رابطے کا ایک انداز ہے۔ بچے کے رونے کے جواب میں اسے اٹھا لینا اور /یا دھیمے لہجے میں بات کرنے سے بچے میں بھروسے اور تحفظ کا احساس پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

ماں، باپ یا دیکھ بھال کرنے والے دیگر افراد کے ساتھ اس قسم کا ابتدائی رشتہ اورپیار بچے کی پوری زندگی میں صلاحیتوں کی ایک وسیع رینج استعمال کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ان صلاحیتوں میں درج ذیل شامل ہیں:

بچوں کے ذہن کی نشوونماء کے ساتھ ساتھ ان کے جذبات بھی نشوونماء پاتے ہیں جو حقیقت پر مبنی اور طاقت ور ہوتے ہیں۔ اگر بچے جو کچھ کرنا چاہتے ہوں اور نہ کر پائیں یا جو چیز وہ چاہ رہے ہوں انہیں نہ مل پائے تو وہ مایوسی کا اظہار کر سکتے ہیں۔ وہ اکثر اجنبی لوگوں، نئی صورت حال یا اندھیرے سے ڈرجاتے ہیں۔ ایسے بچے جن کی حرکتوں پر ہنسا جائے، انہیں سزا دی جائے یا ان پر توجہ نہ دی جائے بڑے ہو کر شرمیلے اور عمومی طور پر اپنے جذبات کا اظہار کرنے سے عاری ہو سکتے ہیں۔ اگر دیکھ بھال کرنے والے بچے کی جانب سے شدید جذبات کے اظہار پر صبر اور ہمدردی کا مظاہرہ کریں، تو بچے کے بڑے ہو کر خوش رہنے، محفوظ اور متوازن زندگی گزارنے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔

لڑکے اور لڑکیوں کو ایک ہی جیسی جسمانی، ذہنی، جذباتی اور سماجی ضروریات ہوتی ہیں۔ دونوں کی سیکھنے کی استعداد ایک جیسی ہوتی ہے۔ دونوں کو ایک جیسی محبت، توجہ اور بات منوانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

اگر چھوٹے بچوں کو جسمانی یا جذباتی سزا دی جائے، انہیں تشدد کا سامنا کرنا پڑے، ان سے غفلت برتی جائے یا ان کے ساتھ بدسلوکی کی جائے، یا انہیں ذہنی طور پر بیمار خاندان کے ساتھ زندگی گزارنی پڑے، جیسا کہ ذہنی دباؤ یا نشے کی عادت، تو انہیں بہت زیادہ ذہنی دباؤ سے گزرنا پڑے گا۔ اس قسم کا دباؤ ذہنی نشوونماء میں مداخلت کرتا ہے اور بچپن اور زندگی کے باقی حصے میں مدبرانہ، سماجی اور جذباتی نشوونماء میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے اور رویوں کے مسائل کھڑے کر سکتا ہے۔

جن بچوں کو غصے میں آکر جسمانی یا ذہنی سزا دی جاتی ہے، ان کے خود پرتشدد بننے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ بچوں کے رویوں سے نمٹنے کے لئے زیادہ مثبت اور موثر انداز میں درج ذیل شامل ہو سکتے ہیں:

والدین اور دیکھ بھال کرنے والے دیگر افراد کی جانب سے یہ رد عمل بچوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے لہٰذا وہ خاندان اور کمیونٹی میں اچھی جگہ بنا لیتے ہیں اور ان کے کارآمد رکن بن جاتے ہیں ۔

ماں اور باپ دونوں، اور اس کے ساتھ ساتھ خاندان کے ارکان کو بچے کی دیکھ بھال، افزائش، پرورش، تربیت اور ذہنی و جسمانی نشوونماء میں شامل ہونا چاہیے۔ انہیں چاہیے کہ وہ لڑکیوں اور لڑکوں کی برابری کی بنیاد پر قدر محسوس کریں اور کچھ سیکھنے اور جانکاری میں ان کی حوصلہ افزائی کریں کیوں کہ یہ اسکول کے لئے ان کی اچھی تیاری ہے۔

دنیا بھر میں مائیں عموماً بچوں کے حقوق اور ضروریات کو پورا کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ وہ اپنے بچوں سے پیار کرتی ہیں، فیڈ کرتی ہیں، تسلی دیتی ہیں، پڑھاتی ہیں، ان کے ساتھ کھیلتی ہیں اور ان کا خیال رکھتی ہیں۔

اپنے بچوں کی پرورش، دیکھ بھال اور ان کے حقوق کو تحفظ دینے میں باپ کا کردار، ماں کی طرح بہت اہم ہے۔ ایک باپ کو اپنی بیٹیوں اور بیٹوں کو یہ احساس دلانا چاہیے کہ وہ اس کے لئے ایک جیسی اہمیت کے حامل ہیں۔ بالکل ماں کی طرح، بچوں کی محبت، چاہت، بات ماننے، حوصلہ افزائی اور حوصلہ بڑھانے کی ضروریات پوری کرنے میں باپ بھی مدد کر سکتا ہے۔ ماں اور باپ دونوں مل کر اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ بچہ معیاری تعلیم حاصل کر رہا ہے اور اس کی پرورش اور دیکھ بھال اچھی طرح ہو رہی ہے۔

The Internet of Good Things