زبان: اردو

بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونماء اور ابتدائی تربیت کے حوالے سے اہم معلومات

بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونماء اور ابتدائی تربیت کے حوالے سے اہم معلومات

بچوں کی ذہنی وجسمانی نشوونماء ان تبدیلیوں کی جانب اشارہ کرتی ہے جو بچے میں اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب وہ بڑا ہوتا ہے اور جسمانی صحت، ذہنی تندہی، جذبانی طور پر مطمئن، سماجی طور پر قابل اور سیکھنے کے لئے تیار ایک بچے کی شکل اختیار کرتا ہے۔

بچے کی زندگی کے پہلے پانچ سال بنیادی طور پر بہت اہم ہوتے ہیں۔ یہ عرصہ وہ بنیاد ہے جو بچوں کے مستقبل کی صحت، خوشی، افزائش، ذہنی و جسمانی نشوونماء، اور اسکول، خاندان اور کمیونٹی، اور عام زندگی میں کامیابیوں کو تشکیل دیتی ہے۔ حالیہ تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ پہلے پانچ سال خصوصاً بچے کی ذہنی نشوونماء کے لئے بہت اہم ہیں، اور پہلے تین سال بچے کے ذہنی ڈھانچے کو ترتیب دینے میں اہم ترین ہیں۔ ابتدائی تجربات، ذہن کی انتظامی نشوونماء اور پوری زندگی کے عمل کے لئے ایک بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ وہ براہ راست اس بات پر اثر انداز ہوتے ہیں کہ بچے کیسے سیکھنے کی مہارتیں اور اس کے ساتھ ساتھ سماجی اور جذباتی قابلیتں حاصل کرتے ہیں۔

زندگی کے دیگر اوقات کی نسبت بچے اپنے ابتدائی برسوں میں زیادہ تیزی سے سیکھتے ہیں۔ بھروسے کا شعور اور تحفظ حاصل کرنے کے لئے جو ان کی افزائش کے ساتھ اعتماد میں بدلتا رہتا ہے، انہیں پیار اور اچھی پرورش کی ضرورت ہوتی ہے۔

چھوٹے اور نوجوان بچوں کو پیار، اچھا جذبہ، توجہ، حوصلہ افزائی اور ذہنی فروغ کے ساتھ غذائیت سے بھرپور کھانا اور حفظان صحت کی اچھی دیکھ بھال حاصل ہو تو ان کی افزائش تیزی سے ہوتی ہے اور وہ جلد سیکھتے اور ذہنی و جسمانی نشوونماء حاصل کر لیتے ہیں۔

بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونماء کے مراحل کو سمجھنے سے والدین کو یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ کس بات کی امید کی جاسکتی ہے اور کسی بچے یا بچی کی افزائش اور ذہنی و جسمانی نشوونماء کی کس طرح بہتر طور پر حمایت کی جا سکتی ہے۔

بہت سی صورت احوال میں، ابتدائی بچپن کے پروگرام شیر خواری کی عمرسے 8 سال کی عمر تک والدین اور ان کے بچوں کی مدد کرتے ہیں، جس میں گھر سے اسکول تک اہم تبدیلی شامل ہے۔

تمام بچوں کو یہ حق حاصل ہے کہ ان کی پرورش خاندان میں کی جائے اور انہیں حفظان صحت، اچھی غذائیت، تعلیم، کھیل کود کی معیاری سہولتوں تک رسائی اور خطرے، بدسلوکی اور تفریق سے تحفظ حاصل ہو۔ بچوں کو یہ حق حاصل ہے کہ ان کی ایسے ماحول میں پرورش کی جائے جس میں وہ زندگی میں اپنی پوری صلاحیتوں کو حاصل کرنے کے قابل ہو سکیں۔

والدین، دیکھ بھال کرنے والے دیگر لوگوں، خاندان کے ارکان، کمیونٹیوں، شہری معاشرے اور حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے حقوق کا احترام کیا جا رہا ہے، انہیں تحفظ حاصل ہے اور یہ حقوق پورے کئے جا رہے ہیں۔

The Internet of Good Things