زبان: اردو

بچوں کی کھیلنے اور نئی باتیں سیکھنے کی حوصلہ افزائی کی جائے تو انہیں مزید سیکھنے اور سماجی، جذباتی، جسمانی اور ذہنی نشوونماء کے حصول میں مدد ملتی ہے۔ یہ عمل بچوں کو اسکول کے لئے تیار کرنے میں مدد دیتا

بچوں کی کھیلنے اور نئی باتیں سیکھنے کی حوصلہ افزائی کی جائے تو انہیں مزید سیکھنے اور سماجی، جذباتی، جسمانی اور ذہنی نشوونماء کے حصول میں مدد ملتی ہے۔ یہ عمل بچوں کو اسکول کے لئے تیار کرنے میں مدد دیتا ہے۔

بچے کھیلتے ہیں کیوں کہ یہ ان کے لئے دل لگی ہے۔ کھیلنا ان کی تربیت اور ذہنی و جسمانی نشوونماء کی کنجی ہے۔ مل جل کر کھیلنا یا اکیلے کھیلنا بچے میں مستقبل کی تعلیم و تربیت اور زندگی کی مہارتیں پیدا کرنے کے لئے بنیاد فراہم کرتا ہے۔ یہ بچوں کی درج ذیل کاموں میں مدد دیتا ہے:

معذوری یا ایچ آئی وی (ایڈز) جیسے سنگین امراض کا شکار بچوں کے لئے حوصلہ دیا جانا، کھیلنا اور دیگر بچوں اور بالغوں کے ساتھ کھیل میں شامل کرنا بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔

جب والدین اور دیکھ بھال کرنے والے دیگر افراد بچوں کے ساتھ ان کی پہلی (مادری) زبان میں بات چیت کرتے ہیں اور باہمی رابطہ کرتے ہیں تو یہ عمل بچوں میں سوچنے اور اپنے خیالات کے اظہار کی مہارت پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔ بچے گیت سننے اور گانے، کہانی سنانے یا انہیں پڑھ کر سنانے، نظمیں دہرانے اور مختلف کھیل کھیلنے کے ذریعے زیادہ جلدی زبان سیکھ لیتے ہیں۔

لڑکیوں اور لڑکوں کو کھیل اور بہن بھائیوں ، دادا، دادی، نانا، نانی سمیت خاندان کے تمام ارکان کے ساتھ باہمی تعاون اور گھر سے باہر کی سرگرمیوں کے لئے ایک ہی جیسے مواقع کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماں اور باپ کے ساتھ کھیل اور باہمی تعاون بچے اور والدین کے درمیان رشتے کو مضبوط کرنے میں مدد دیتا ہے۔

خاندان کے ارکان اور دیکھ بھال کرنے والے دیگر افراد بچوں کو واضح ہدایات کے ساتھ سادہ ٹاسک دیتے ہوئے، کھیلنے کے لئے اشیاء فراہم کرتے ہوئے اور ان کے لئے نئی سرگرمیاں تجویز کرتے ہوئے بچوں کو سیکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ انہیں بچوں کے کھیل میں خود غالب نہیں آنا چاہیے۔

تمام بچوں کو کھیلنے کے لئے مختلف اقسام کی ایسی سادہ چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کی ذہنی و جسمانی نشوونماء اور تربیت کے مرحلے کے لئے موزون ہوں۔ پانی، ریت، کارڈ بورڈ باکسز، لکڑی کے عمارتی بلاکس، برتن اور ڈھکنے بچو ں کے کھیلنے اور تربیت حاصل کرنے کے لئے دوکان سے لائے گئے کھلونوں کی طرح ہی اچھے ہوتے ہیں ۔

والدین اور دیکھ بھال کرنے والے دیگر افراد کو اس وقت بڑا صبر کرنا پڑتا ہے جب کوئی چھوٹا بچہ کسی مدد کے بغیر کچھ کرنے کی کوشش کرنے پر بضد ہوتا ہے۔ بچے اس وقت تک سیکھنے کے کوشش کرتے رہتے ہیں جب تک کہ وہ کامیاب نہیں ہو جاتے۔ جب تک بچہ کسی خطرے سے محفوظ رہے، کوئی نیا اور مشکل کام کرنے کی کوشش کرتا رہے تو وہ بچے کی ذہنی و جسمانی نشوونماء کی جانب ایک مثبت قدم ہوتاہے۔

بچے مسلسل نئی صلاحیتیں تبدیل کرتے اور تشکیل دیتے رہتے ہیں۔ دیکھ بھال کرنے والوں کو چاہیئے کہ وہ ان تبدیلیوں پر غور کریں اور یہ اندازہ لگائیں کہ بچہ کیا کرنا چاہتا ہے۔ بچوں کے کام پر رد عمل ظاہر کرنے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے سے ان کی تیز نشوونماء میں مدد ملتی ہے۔

جب چھوٹے بچے ذرا بڑے ہو جاتے ہیں تو انہیں اپنی عمر کے دوسرے بچوں کے ساتھ سیکھنے اور ملنے جلنے کے مواقع کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی تربیت یافتہ دیکھ بھال کرنے والے فرد یا ٹیچر سے گھر پر یا نرسری اسکول یا کنڈرگارٹن (کے جی) میں گروپ میں کی جانے والی تربیتی سرگرمیاں بچوں کو اسکول کے لئے تیار کرنے میں مدد دینے میں بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔

The Internet of Good Things