زبان: اردو

بچے پیدائش کے مرحلے سے ہی فوری سیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ جب جواب میں انہیں والدین اور دیکھ بھال کرنے والے دیگر افراد سے غذائیت سے بھرپور کھانے اور حفظان صحت کی موزوں دیکھ بھال اور تحفظ کے ساتھ ساتھ اچھ

بچے پیدائش کے مرحلے سے ہی فوری سیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ جب جواب میں انہیں والدین اور دیکھ بھال کرنے والے دیگر افراد سے غذائیت سے بھرپور کھانے اور حفظان صحت کی موزوں دیکھ بھال اور تحفظ کے ساتھ ساتھ اچھا جذبہ، توجہ ملے اور ان کا حوصلہ بڑھایا جائے تو ان کی افزائش تیزی سے ہوتی ہے اور وہ بہتر طور پر سیکھتے ہیں۔

چھونا، سننا، سونگھنا، نظر اور ذائقہ وہ ٹولز ہیں جنہیں بچہ (یا بچی) اپنی دنیا کی تلاش اور اسے سمجھنے کے لئے استعمال کرتا ہے۔

  1. محبت، توجہ دینا، اور حوصلہ بڑھانا

بچوں کے ذہن کی نشوونما اس وقت بڑی تیزی سے ہوتی ہے، جب ان سے بات کی جائے، چھوا جائے، انہیں چمٹایا جائے؛ جب وہ جانے پہچانے چہرے دیکھیں اور آوازیں سنیں؛ اور جب وہ مختلف اشیاء کو استعمال کریں۔

بچے اس وقت زیادہ تیزی سے سیکھتے ہیں جب وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ پیدائش سے لے کر اب تک ان سے محبت کی جارہی ہے اور انہیں تحفظ دیا جا رہا ہے اور جب وہ خاندان کے ارکان اور اپنے قریب موجود دیگر افراد کے ساتھ کھیلتے اور باہمی تعاون کرتے ہیں۔ ماں، باپ، اور دیکھ بھال کرنے والے دیگر افراد جتنا زیادہ بچے کے ساتھ کھیلیں گے، اس سے بات کریں گے اور اس کی حرکتوں پر اپنا رد عمل ظاہر کریں گے، اتنی ہی تیزی سے بچہ (یا بچی) سیکھے گا۔

والدین اور دیکھ بھال کرنے والے دیگر افراد کو چاہیے کہ وہ شیر خوار اور چھوٹے بچوں کے ساتھ مسلسل بات کریں، انہیں کچھ پڑھ کر سنائیں، اورگائیں۔ اگر بچہ ابھی الفاظ سمجھنے کے قابل نہیں ہوا تب بھی یہ ابتدائی ’گفتگو‘ اس میں سماجی اور لسانی مہارتیں پیدا کرنے اور سیکھنے کی استعداد حاصل کرنے میں مدد دے گی۔

والدین اور دیکھ بھال کرنے والے دیگر افراد بچوں کو سیکھنے اور انہیں نئی، دلچسپ اور محفوظ چیزیں دیکھنے، سننے، سونگھنے، پکڑنے اور کھیلنے کے لئے دیتے ہوئے ان کی افزائش میں مدد دے سکتے ہیں۔

جو بچے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ محفوظ ہیں اور ان سے پیار کیا جارہا ہے، وہ عموماً اسکول میں اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں، بہتر طور پر خودپسند ہوتے ہیں اور زندگی میں درپیش مشکلات کا زیادہ آسانی سے مقابلہ کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔

  1. اچھی غذا

پہلے چھ ماہ، مطالبے پر صرف ماں کا دودھ پلانے، 6 ماہ کی عمر میں بروقت محفوظ اور غذائیت سے بھرپور خوراک متعارف کروانے اور دو سال یا اس کے بعد تک ماں کا دودھ پلاتے رہنے سے بچے کو غذا اور صحت کے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ فیڈنگ کا وقت بچے کے لئے ماں سے پیار حاصل کرنے اور ماں، باپ یا دیکھ بھال کرنے والے دیگر افراد کے ساتھ رابطہ رکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

اچھی غذا بچے کی ذہنی و جسمانی نشوونماء کے لئے بہت اہم ہے۔ حاملہ عورت اور ایک چھوٹے بچے کی غذا رنگ برنگی اور غذائیت سے بھرپور ہونی چاہیئے۔ اس میں غذائیت کے ضروری اجزاء جیسا کہ پروٹینز، بچے کی افزائش اور اسے طاقت دینے کے لئے ضروری مقدار میں چکنائی، بیماریوں کا مقابلہ کرنے کے لئے وٹامن ’اے‘، بچے کی ذہنی صحت کی نشوونماء کویقینی بنانے کے لئے آیوڈین، اور بچے کی ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کے تحفظ کے لئے آئرن شامل کئے جانے چاہیئں۔

جب کہ ماں کا بنیادی کردار بچے کو اپنا دودھ پلانا ہے، باپ اس بات کو یقینی بناتے ہوئے اس کی مدد کرسکتا ہے کہ اسے غذائیت سے بھرپور خوراک مل رہی ہے، گھر کے کام کاج اور بچے کی دیکھ بھال کی ذمہ داریوں میں اس کا ہاتھ بٹایا جا رہا ہے، اور وہ اس کے ساتھ، بچے کے ساتھ، بڑے بچوں اور خاندان کے دیگر ارکان کے ساتھ جذباتی تعاون کر رہا ہے۔

  1. صحت کی موزوں دیکھ بھال

کارکن صحت کو چاہیے کہ والدین اور دیکھ بھال کرنے والے دیگر افراد کو درج ذیل کے بارے میں بتائے:

وہ بچے جو خون کی کمی، خوراک کی کمی کا شکار ہیں یا بار بار بیمار پڑ جاتے ہیں، ان کے صحت مند بچوں کی نسبت زیادہ خوف زدہ ہونے اور آسانی سے پریشان ہو نے کے امکانات ہوتے ہیں۔ان میں کھیلنے، نئی باتیں سیکھنے اور دیگر لوگوں کے ساتھ باہمی تعاون کے جذبے کی بھی کمی ہوگی۔ ایسے بچوں کو خصوصی توجہ، دیکھ بھال اور کھانے، کھیلنے اور دوسروں کے ساتھ باہمی تعاون کرنے میں ان کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ صحت مند ہوجائیں ۔

وہ نوزائیدہ بچے جن کے حفاظتی ٹیکوں کا کورس بروقت مکمل ہو چکا ہے اور وہ موزون غذا، حفظان صحت، پیار اور محبت حاصل کر رہے ہیں، ان کی بقاء کے امکانات زیادہ ہیں۔ وہ اس قابل ہوں گے کہ نئی باتیں سیکھنے، تربیت حاصل کرنے اور تدبرانہ، لسانی، سماجی، جذباتی اور موثر مہارتیں حاصل کرنے پر توجہ دے سکیں۔

  1. رد عمل کا اظہار کرنے اور دیکھ بھال کرنے والے والدین اور / یا دیکھ بھال کرنے والے دیگر افراد کی جانب سے تحفظ اور دیکھ بھال

ننھے اور چھوٹے بچوں کو زیادہ وقت کے لئے اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیئے۔ ایسا کرنے سے ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونماء میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ یہ عمل حادثات کے خطرے سے بھی دوچار کر سکتاہے۔

لڑکیوں کو بھی خوراک کی وہی مقدار، توجہ، شفقت اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے جتنی کہ لڑکوں کو ہوتی ہے۔ شیر خوار اور چھوٹے بچے جب کوئی نئی بات یا نئے الفاظ ادا کرنا سیکھیں تو ان کی حوصلہ افزائی اور تعریف کرنے کی ضرورت ہے۔

تمام لڑکیوں اور لڑکوں کے پیدائش کا اندراج کروانا چاہیے تاکہ حفظان صحت، تعلیم، اور قانونی اور سماجی خدمات جیسی بنیادی سہولتوں تک ان کی رسائی کے حق کو یقینی بنانے میں مدد مل سکے۔

The Internet of Good Things