زبان: اردو

بچے کی ذہنی و جسمانی نشوونماء میں تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے اسے بروقت پرائمری اسکول میں داخل کروانا بہت اہم ہے۔ والدین، دیکھ بھال کرنے والے دیگر افراد، ٹیچرز اور کمیونٹی کی مدد بہت اہمیت کی حامل ہے۔

بچے کی ذہنی و جسمانی نشوونماء میں تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے اسے بروقت پرائمری اسکول میں داخل کروانا بہت اہم ہے۔ والدین، دیکھ بھال کرنے والے دیگر افراد، ٹیچرز اور کمیونٹی کی مدد بہت اہمیت کی حامل ہے۔

بہت سے ممالک میں، بچے پرائمری اسکول کاآغاز 6 یا 7 سال کی عمر میں کرتے ہیں۔ اسکول کاآغاز بچے کی ذہنی و جسمانی نشوونماء میں ایک نازک مرحلہ ہے۔

لڑکیوں اور لڑکوں دونوں کو ایک مناسب عمر میں اسکول کا آغاز کرنا چاہیے (اپنے ملک کی پالیسی کے مطابق)۔ جس وقت وہ اسکول میں داخل ہوں، تو ان میں بنیادی مدبرانہ اور لسانی مہارتیں اور کافی سماجی قابلیت اور جذباتی نشوونماء موجود ہونی چاہیے جو انہیں اسکول کی رسمی صورت حال میں تربیت حاصل کرنے میں مزا دے۔

بچوں کی اسکول میں کامیاب منتقلی کے لئے والدین اور دیکھ بھال کرنے والے دیگر افراد کی مدد بہت اہم ہے۔ والدین اور دیکھ بھال کرنے والے دیگر افراد کو چاہیے کہ وہ لڑکیوں اور لڑکوں کو باقاعدگی سے اسکول بھیجنے اور اس مقصد کے لئے انہیں اچھی طرح تیار کرنے میں، ان کی برابری کی بنیاد پر پوری مدد کریں۔ انہیں اسکول کی سرگرمیوں میں بھی شامل ہونا چاہیے۔ ایسا کرنے سے بچوں کو اسکول کے ماحول کو اپنانے، اسکول کے تربیتی ماحول میں اپنے آپ کو بڑی تیزی سے ڈھالنے اور باقاعدگی سے اسکول میں حاضر ہونے میں مدد ملے گی۔

اساتذہ کو چاہیے کہ وہ ان چھوٹے بچوں کی مدد کرنے کے لئے تیار رہیں جو ابھی تک تربیت کی بنیادی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اساتذہ کا کردار لڑکیوں اور لڑکوں دونوں میں اعتماد پیدا کرنے میں بہت اہم ہے تاکہ وہ برابری کی بنیاد پر اس سے لطف اندوز ہو سکیں اور تربیت کے مراحل کامیابی سے طے کر لیں۔ اسکول کے ابتدائی برسوں میں کھیل تعلیم و تربیت کا ایک بنیادی ذریعہ رہے گا۔ بچوں کے لئے ایک ایسا دوستانہ اسکول جو سرگرم تربیت کی حمایت کرتا ہے اور ان کی اس میں شرکت کو فروغ دیتاہے، بچوں کے لئے تربیت کا ایک بہترین ماحول پیش کرتا ہے۔

خاندانوں ، اسکول، اور کمیونٹی کے ساتھ ساتھ مقامی حکام اور شہری معاشرہ درج ذیل کام کر سکتے ہیں:

The Internet of Good Things