زبان: اردو

بچوں کو ان تمام کاموں سے تحفظ دینا لازم ہے جو خطرناک ہوں۔ کام کی وجہ سے انہیں اسکول جانے سے نہیں روکناچاہئیے۔ بچوں کو کبھی بھی بچوں سے مشقت کی خراب ترین اشکال، جیسا کہ غلامی، جبری مشقت،نشہ آور اشیاء

بچوں کو ان تمام کاموں سے تحفظ دینا لازم ہے جو خطرناک ہوں۔ کام کی وجہ سے انہیں اسکول جانے سے نہیں روکناچاہئیے۔ بچوں کو کبھی بھی بچوں سے مشقت کی خراب ترین اشکال، جیسا کہ غلامی، جبری مشقت،نشہ آور اشیاء کی تیار ی یا خرید وفروخت میں کبھی بھی ملوث نہیں کرنا چاہئیے۔

کام پر جانے والے اکثر بچے اپنے خاندانوں کے لئے روزی کمانے کی خاطر ایسا کرتے ہیں تاکہ انہیں کھانا مل سکے اور ان کی بنیادی ضرورتیں پوری ہو سکیں۔ بہت سے بچے بہت کم عمر، جیسا کہ4سال کی عمر میں ہی کام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ بہت سے کیسوں میں، اسکول سے پہلے اور اسکول کے بعد کئی کئی گھنٹوں تک،یا سارا سارا دن اور پوری شام دیر تک اسکول جائے بغیربچوں کے کام کرنے کو نارمل تصور کیا جاتا ہے۔

بچے جن کاموں میں مصروف پائے جا سکتے ہیں ان میں زراعت، کامرس، فیکٹریاں، مچھلی کی صنعت، مارکیٹس، گھر یلو کام، بچوں کی دیکھ بھال، ریستوران، کوڑے کے ڈھیر اور گلیوں سے کاغذچننا شامل ہیں۔

کام کرنے والے بچوں کی تقریبا 70فی صد تعداد زرعی شعبے میں کام کرتی ہے، جو نہایت نقصان دہ ہے۔ اس کام میں بھاری جسمانی محنت، لمبے اوقات، کھاد کا استعمال اور خطرناک آلات سے واسطہ پڑ سکتاہے۔ بچوں کو، خصوصاًفصل کی کٹائی کے زمانے میں (جب انہیں کام کے لئے اضافی وقت دینا پڑتا ہے )، اور بوائی کے موقع پر کام کے دوران جنسی بدسلوکی اور استحصال کا خطرہ در پیش ہو سکتا ہے۔

کچھ بچے مشقت کی خراب ترین اشکال میں مصروف ہوتے ہیں، جیسا کہ بچوں کی غلامی، قرض کے بدلے غلامی، جبری مشقت، نشہ آور اشیاء کی تیاری اور فروخت۔ یہ سارے کام غیر قانونی ہیں۔ بچوں کو لازمی اور فوری طور پر ایسی صورت احوال سے ہٹا لینا چاہئیے اور،اگر ان کے بہترین مفاد میں ہو، تو انہیں خاندانوں اور کمیونٹیوں میں واپس بھیج دینا چاہئیے۔

بچوں کے کام کو ان کی صحت یا بہبود کے لئے نقصان دہ نہیں ہونا چاہئیے۔ کام کی خاطر بچوں کو اسکول جانے سے نہیں روکنا چاہئیے۔

حکومت اور مقامی حکام کو چاہئیے کہ خاندانوں اور شہری معاشرے کی مددسے بچوں سے مشقت کی نقصان دہ صورت احوال کو روکنے کے لئے اقدام تجویز کریں، جیسا کہ:

• بچوں سے مشقت کے سلسلے میں کمیونٹی میں پائی جانے والی مختلف نقصان دہ اشکال،اور ان اشکال کی نشان دہی کی جائے جو بچوں کوہجرت کرنے پر پیش آ سکتی ہیں، اور ان سے عوام الناس کو آگاہ کیا جائے۔ • بچوں سے مشقت کی نقصان دہ اشکال کی نشان دہی کی جائے اور انہیں ختم کیا جائے۔ • بچوں سے مشقت کی نقصان دہ اشکال میں کام کرنے والے ایسے بچوں کو وہاں سے ہٹانے اور،اگر ان کے بہترین مفاد میں ہو، تو انہیں ان کے خاندان اور کمیونٹی میں واپس بھیجنے میں مدد کی جائے جو گھر سے دور رہتے ہیں۔ • اس بات کویقینی بنائیں کہ کمیونٹی کے تمام بچے، بچوں کے لئے دوستانہ اسکولوں میں پورے وقت کے لئے جاتے ہیں اور اچھی معیاری تعلیم حاصل کر رہے ہیں جو تمام بچوں کو برابری کی بنیاد پر اور تشدد سے پاک ماحول میں دی جا رہی ہے۔ • ضرورت مند خاندانوں کی آمدنی میں اضافہ اور / یا سماجی بہبود کی سہولتوں میں مدد دینی چاہئیے، تاکہ وہ اپنے بچوں کی آمدنی پر انحصار کم کرتے ہوئے انہیں اسکول بھیج سکیں۔

خاندانوں کو گھر سے دورکام، جیسا کہ گھروں اور کھیتوں میں کام، کے لئے بچوں کو بھیجنے میں درپیش خطرات سے آگاہ ہونا چاہئیے۔

بچوں اور نوجوان بالغوں کو ان خطرات، جیسا کہ جسم فروشی اور نشہ آور اشیاء کی فروخت، سے اچھی طرح آگاہ ہونا چاہئیے جو انہیں گھر چھوڑ کر کام پر جانے کی وجہ سے بڑے خطرات سے دوچار کر سکتے ہیں۔

The Internet of Good Things