زبان: اردو

لڑکیوں اور لڑکوں کو اپنے گھر، اسکول، کام کی جگہ یا کمیونٹی میں جنسی بدسلوکی اور استحصال کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ جنسی بدسلوکی اور استحصال کو روکنے کے لئے اقدام کئے جانے چاہیئں۔ جنسی بدسلوکی اور استحصا

لڑکیوں اور لڑکوں کو اپنے گھر، اسکول، کام کی جگہ یا کمیونٹی میں جنسی بدسلوکی اور استحصال کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ جنسی بدسلوکی اور استحصال کو روکنے کے لئے اقدام کئے جانے چاہیئں۔ جنسی بدسلوکی اور استحصال کا شکارہونے والے بچوں کے خلاف ایسی بدسلوکی کوروکنے میں فوری مدد کرنے کی ضرورت ہے۔

بچوں کو جنسی استحصال اور جنسی بدسلوکی کی تمام اشکال سے تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

جنسی بدسلوکی کا شکار ہونے والے زیادہ تر بچے بدسلوکی کرنے والوں کو جانتے ہیں۔ بدسلوکی کرنے والے زیادہ تر لوگ بچے کے رشتہ دار اور جان پہچان والے ہوتے ہیں۔ بچے کے خلاف بدسلوکی زیادہ تر مردوں کی جانب سے کی جاتی ہے۔ کوئی بھی وجہ ہو، جنسی بدسلوکی یا استحصال میں بچے کی کبھی غلطی نہیں ہوتی۔ اس عمل کی ذمہ داری ہمیشہ بدسلوکی کرنے والے پر ہوتی ہے۔

اس بات سے قطع نظر کہ اس عمل کی قسم، شدت یا دورانیہ کتنا ہے،ہر فرد کا جنسی بدسلوکی یا جنسی استحصال کے بارے میں ردعمل بے مثال ہوتا ہے۔ متاثرہ بچے کا جذباتی رد عمل یہ ہوسکتا ہے کہ وہ خاموش رہے، غصے کا اظہار کرے، توجہ نہ دے یا صدمے میں چلا جائے۔

کچھ بچوں کو ایسی صورت حال کا سامنا ہو سکتا ہے جو ان کی زندگی کے لئے خطرہ بن سکے، جیسا کہ ایچ آئی وی سمیت جنسی بیماریاں۔ لڑکیوں کو جلد اور بلا خواہش حمل جیسے اضافی خطرے کا سامنا ہو سکتا ہے جو ان کی زندگی کے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور انہیں صدمے اور تفریق کاشکار بھی کر سکتاہے۔

بچوں کوابتدائی عمر میں ہی ’اچھی نیت‘ اور ’بری نیت ‘ سے چھونے کے درمیان فرق کے بارے میں سکھادینا چاہئیے۔ بچوں کو یہ بھی سکھایا جا سکتا ہے کہ اگر وہ کسی کے’بری نیت ‘ سے چھونے کو محسوس کریں تو اپنے کسی قابل اعتماد بالغ کو اس بارے میں آگاہ کر دیں۔ اگر کوئی بچہ ایسی کسی معلومات کے ساتھ کسی بالغ کے پاس آتا ہے، تو اس بالغ کو چاہئیے کہ بچے کی بات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری طور پر اس بات کو یقینی بنائے کہ اس بدسلوکی کو ختم کر دیا گیا ہے۔ بدسلوکی کی اطلاع حکام کو فراہم کی جانی چاہئیے، اور بچے کو حفاظتی خدمات فراہم کی جانی چاہیئں۔

بہت سے ایسے بچے اور نوجوان لوگ جو جنسی بدسلوکی یا استحصال کا شکار ہوتے ہیں، ان کے زخم بھرجاتے ہیں اور وہ ایک نارمل زندگی گزارنے لگتے ہیں۔ بچپن میں جنسی بدسلوکی کا شکار ہونے والے بچے بڑے ہو کر خود بخود جنسی جارحیت کا رویہ نہیں اپناتے۔ جنسی بدسلوکی کا ارتکاب کرنے والے زیادہ تر لوگ بچے کی حیثیت سے جنسی بدسلوکی کا نشانہ نہیں بنے ہوتے، اور جنسی بدسلوکی کا شکار ہونے والے زیادہ تر بچے دوسروں کو بدسلوکی کا نشانہ نہیں بناتے۔

حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے نظام اور خصوصی اقدامات کویقینی بنائے جن میں :

• بچوں کے خلاف بدسلوکی، تشدد اور استحصال کو روکا جا سکے۔ • بچوں کو اس قابل بنایا جا سکے کہ وہ بدسلوکی اور استحصال کے واقعات کی اطلاع متعلقہ لوگوں / حکام کو دے سکیں۔ • اس بات کو یقینی بنایاجاسکے کہ جنسی بدسلوکی اور استحصال کے مرتکب افراد کو قانون کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا دی جا رہی ہے۔ • سماجی خدمات، جیسا کہ حفظان صحت، ذہنی سماجی امداد، عارضی دیکھ بھال، تعلیم اور قانونی مددان بچوں کے لئے بروقت دستیاب ہو جن کے خلاف بدسلوکی کی گئی ہے یا انہیں استحصال کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

The Internet of Good Things