زبان: اردو

لڑکیوں اور لڑکوں کو لازمی طور پرتشدد اور بدسلوکی کی تمام اشکال سے تحفظ فراہم کرنا چاہئیے۔ ان میں جسمانی، جنسی اور جذباتی بدسلوکی، غفلت، اور نقصان دہ رواج، جیسا کہ بچوں کی شادی اور لڑکیوں کے ختنے شامل

لڑکیوں اور لڑکوں کو لازمی طور پرتشدد اور بدسلوکی کی تمام اشکال سے تحفظ فراہم کرنا چاہئیے۔ ان میں جسمانی، جنسی اور جذباتی بدسلوکی، غفلت، اور نقصان دہ رواج، جیسا کہ بچوں کی شادی اور لڑکیوں کے ختنے شامل ہیں۔ خاندان، کمیونٹیوں اورحکام پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس تحفظ کو یقینی بنائیں۔

لڑکیوں اور لڑکوں کو بہت سے جگہوں پر مختلف اقسام کے تشدد، بدسلوکی اور / یا نقصان دہ رسوم سے واسطہ پڑ سکتا ہے: خاندان میں یا گھر پر:

• جسمانی تشدد۔ • ذہنی تشدد۔ • جنسی تشدد اور بدسلوکی۔ • جسمانی سزا۔ • غفلت اور چھوڑ دیا جانا۔ • بچپن کی شادی۔ • نقصان دہ روائیتی رسوم، جیسا کہ عورتوں کے ختنے۔

اسکولوں اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں :

• جسمانی سزا۔ • ذہنی سزا۔ • جنسی اور صنف پر مبنی تشدد۔ • زبانی اور جسمانی دھمکیاں۔ • جھگڑے۔

دیکھ بھال اور انصاف کے اداروں میں (جیسا کہ،یتیم خانے، بچوں کے گھر، اور حراستی سہولتیں):

• نظم و ضبط کی آڑ میں جسمانی اور ذہنی تشدد۔ • غفلت۔ • بچوں کا بچوں کے خلاف تشدد۔ • جنسی بدسلوکی اور تشدد۔

کام کی جگہوں پر:

• جسمانی اور ذہنی سزا۔ • توہین۔ • جنسی طورپر ہراساں کرنا اور بدسلوکی۔ کمیونٹی میں (ہم عصروں کے مابین، گینگس کے درمیان، پولیس کی جانب سے اور بردہ فروشوں کی جانب سے):

• جسمانی تشدد۔ • مسلح تشدد۔ • جنسی تشدد۔

تشدد کا شکار ہونے والے بچے اکثر خوف،شرم یا بدنامی کی وجہ سے خاموش رہتے ہیں۔ کچھ اسے زندگی کے ایک حصے کے طور پر تسلیم کر لیتے ہیں۔ جب کہ تشدد کے کچھ واقعات کا ارتکاب اجنبی لوگوں کی جانب سے کیا جاتا ہے، تاہم بہت سے واقعات میں وہ لوگ تشدد کا ارتکاب کرتے ہیں جنہیں بچے جانتے ہیں، ان پر بھروسہ کرتے ہیں اور اپنے تحفظ کے لئے ان کی جانب دیکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں والدین، سوتیلے والدین، والدین میں سے کسی کا دوست، رشتے دار، دیکھ بھال کرنے والے، بوائے فرینڈز، گرل فرینڈز، اسکول کے ساتھی، ٹیچرز، مذہبی قائدین، اور آجر شامل ہو سکتے ہیں۔

تمام لڑکیوں اور لڑکوں کو بدسلوکی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ عام طور پر، لڑکوں کو جسمانی اور مسلح تشدد اور لڑکیوں کو غفلت اور جنسی تشدد اور استحصال کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

بچوں کے کچھ مخصوص گروپس تشدد کے خلاف خاص طور پر ناتواں ہوتے ہیں۔ ان میں معذوری کا شکار بچے، اقلیتی گروپس سے تعلق رکھنے والے بچے، سٹرکوں پر رہنے والے یا کام کرنے والے بچے، قانونی جھگڑوں میں ملوث بچے، اور ایسے بچے شامل ہوتے ہیں جو ہجرت کرکے، بے گھر ہو کر یا منتقل ہو کر آئے ہیں۔

شیر خوار اور چھوٹے بچے اکثر رونا بند نہ کرنے کی وجہ سے والدین یا دیکھ بھال کرنے والے دیگر افراد کی جانب سے غصے یا مایوسی کا شکارہوجاتے ہیں۔ ممکن ہے کہ دیکھ بھال کرنے والا شیر خواریا چھوٹے بچے کو اتنے زور سے جھٹکے اور شدت سے ہلائے کہ وہ بچے کے ذہن کو متاثر کردے یا کسی مستقل زخم یا موت کی وجہ بن جائے۔ بچوں کو زور سے کبھی نہیں جھٹکنا چاہئیے۔ شدت سے جھٹکنے کی علامات میں غصے کی حالت، جاگتے رہنے میں مشکل، سانس لینے میں مشکل، کپکپاہٹ، قے آنا، کسی مرض کا اچانک لاحق ہونا یا کومے میں چلے جاناشامل ہیں۔ ان علامات کے ظاہر ہونے پر فوری طبی دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔

عمومی طور پر، بچے کے خلاف غلط حرکت ہوجانے کے بعد مداخلت پر توجہ دی جاتی ہے۔ مسئلے کی شدت کی وجہ سے، یہ بات اہم ہے کہ کمیونٹیاں اپنی توجہ بچوں کے خلاف تشدد،بدسلوکی،غفلت، اور نقصان دہ رسوم کی روک تھام پر دیں۔

ہر کمیونٹی کوچاہئیے کہ بچوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لئے کوئی منصوبہ بنائے اوراس پر عمل در آمد کرے۔

کچھ عملی اقدام میں درج ذیل شامل ہیں :

• تشدد کی تمام اشکال کے خلاف ضابطہ اخلاق تشکیل دیں اورا یسی تمام جگہوں پر اسے تقسیم کریں جہاں بچے رہتے ہیں، اسکول جاتے ہیں، کھیلتے اورکام کرتے ہیں۔ • والدین اور دیکھ بھال کرنے والوں کو آگاہ کریں کہ بچے کی سوچ کا احترام کریں، یہ جاننے کی کوشش کریں کہ مثبت اور غیر متشدد نظم و ضبط کو کس طر ح استعمال کرنا ہے جب کہ غصے میں نظم وضبط لاگو نہیں کرنا ہے۔ • اسکولوں میں ایسے رویئے کے رحجان کی حمایت کریں جس میں تشدد کو مستردکیا جاتا اورجھگڑوں کے غیر متشدد حل کو فروغ دیا جاتا ہو۔ اس عمل میں کلاس روم کی انتظامیہ میں تبدیلی (روائیتی طور پر خوف، دھمکیوں، بے عزتی اور جسمانی سزا پر مبنی) لاتے ہوئے بچوں کے لئے دوستانہ حکمت عملی متعارف کروائی جا سکتی ہے جسم میں کسی کے ساتھ تفریق نہیں کی جاتی اور سیکھنے کے لئے معاونت کی جاتی ہے۔ • جسمانی سزا،بدسلوکی اور نقصان دہ رسوم، جیسا کہ بچپن کی شادی اور بچیوں کے ختنے کے خاتمے کے لئے عوامی مہم کی سرپرستی کریں۔ • تشددسے متاثر ہ بچوں کو اپنے خاندانوں اور کمیونٹیوں میں بحالی میں مددکے لئے انہیں صحت اور سماجی خدمات فراہم کریں۔ • اپنے خلاف ہونے والے تشدد کو رپورٹ کرنے کے لئے بچوں کے لئے محفوظ طریقے قائم کریں، جیسا کہ براہ راست ٹیلی فون یاقابل رسائی سماجی حفاظتی مراکز۔

The Internet of Good Things