زبان: اردو

ہر بچے کو خاندان میں پرورش پانے کا موقع ملنا چاہئیے۔ اگر کوئی خاندان بچے کی دیکھ بھال نہیں کر سکتا، تو حکام کو ان وجوہات پر توجہ دینے کے لئے اقدام کرنے چاہیئں اور خاندان کو یک جا رکھنے کے لئے ہر کوشش

ہر بچے کو خاندان میں پرورش پانے کا موقع ملنا چاہئیے۔ اگر کوئی خاندان بچے کی دیکھ بھال نہیں کر سکتا، تو حکام کو ان وجوہات پر توجہ دینے کے لئے اقدام کرنے چاہیئں اور خاندان کو یک جا رکھنے کے لئے ہر کوشش کرنی چاہئیے۔

بچے پیار کرنے والے خاندان کے ایسے ماحول میں بہترین افزائش پاتے ہیں جہاں ان کے بہترین مفاد کا ہمیشہ خیال رکھاجاتا ہو۔

اگر کوئی بچہ والدین میں سے کسی ایک یا دیکھ بھال کرنے والے کسی دیگرفرد کے بغیر رہ رہا ہے، تو حکام کوچاہئیے کہ فوری عملی اقدا م کرتے ہوئے اس بچی (یا بچے) کے اپنے خاندان یا اضافی خاندان (قریبی رشتہ داروں کے) میں اس کی رہائش کا انتظام کریں۔ لیکن اگر یہ طے ہو جائے کہ اس قسم کا انتظام بچے کے لئے بہترین ترجیح نہیں ہے، تو کسی اور خاندان میں مستقل رہائش کا انتظام کیا جا سکتا ہے۔ ہر طرح سے یہ کوشش کی جانی چاہئیے کہ تمام بہن بھائی ایک ہی جگہ پر اکٹھے رہیں۔

شہری معاشرے کی مددکے ساتھ،حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ خاندان کے بغیر رہنے والے بچوں کو موزوں اوراچھی طرح مانیٹرکی جانے والی متبادل دیکھ بھال فراہم کریں۔ خاندان کے بغیربچوں کی رہائش کی ترجیحات درج ذیل ہیں :

• اضافی خاندان (قریبی رشتہ دار)۔ • پہلے سے اسکرین کیا گیا پرورش کرنے والا خاندان۔ • ایک ایسی رہائشی سہولت جس کا کمیونٹی کے اندر مشترکہ طورپر انتظام کیا گیاہو، اور جہاں خاندان کی طرح کی دیکھ بھال فراہم کی جاتی ہواور، اگربچے (یا بچی) کے بہترین مفادمیں ہو، تو اس کے خاندان کے ساتھ اس کے ملاپ کی کوشش کی جاتی ہو۔

بچوں کومتبادل رہائشی صورت احوال میں رکھنے کے بارے میں کئے جانے والے فیصلوں میں شامل کیا جاناچاہئیے۔

اکثرمختلف اداروں میں بھیجے جانے والے بہت سے بچوں کی مناسب سماج ا مداد کے ساتھ خاندان میں پرورش کی جا سکتی ہے۔ جب کہ کچھ یتیم خانوں میں انتظامات اچھے ہوتے ہیں، تاہم ایسے اداروں میں پلنے سے بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونماء متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ خاص طور پر بچوں کو خاندان اور کمیونٹی کی زندگی سے الگ کر دیتے ہیں اور وہاں بدسلوکی اور استحصال کے خلاف کم تحفظ پیش کیا جاتا ہے۔

کسی بھی ادارے میں دیکھ بھال کو صرف آخری ترجیح اور عارضی حل کے طورپر قبول کیا جانا چاہئیے۔

The Internet of Good Things