زبان: اردو

تمباکو کے دھوئیں یا چولہے کی آگ کا سامنا کرنے والے بچوں اور حاملہ عورتوں کو، خصوصاً نمونیہ یا سانس سے متعلق کوئی دیگر امراض لاحق ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

تمباکو کے دھوئیں یا چولہے کی آگ کا سامنا کرنے والے بچوں اور حاملہ عورتوں کو، خصوصاً نمونیہ یا سانس سے متعلق کوئی دیگر امراض لاحق ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

اگر بچے کسی ایسے ماحول میں رہ رہے ہوں جہاں انہیں دھوئیں کاسامنا ہو توانہیں نمونیہ یا سانس کے دیگر امراض لاحق ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں ۔

دھوئیں کا سامنا بچے کے لئے پیدائش سے قبل بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ حاملہ عورتوں کو سگریٹ نوشی سے پرہیز اور دھوئیں کا سامنا کرنے سے بچنا چاہیئے۔ خاص طور پرشیر خوار بچوں کو دھوئیں والے باورچی خانے اور چولہے کی آگ سے دور رکھنا چاہئیے۔

تمباکو کا استعمال عموماً آغاز بلوغت سے شروع ہو جاتا ہے۔ نوجوان بالغوں میں سگریٹ نوشی کے آغاز کا اس وقت زیادہ امکان ہوتا ہے، جب (1) ان کے آس پاس رہنے والے بالغ سگریٹ نوشی کر رہے ہوں ، (2) تمباکو نوشی کے اشتہارات اور فروغ عام ہو، اور (3) تمباکو نوشی کی اشیاء یعنی سگریٹ وغیرہ سستی اور آسانی سے دستیاب ہوں ۔ نوجوان بالغوں میں سگریٹ نوشی سے پرہیز کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیئے اور ان کے دوستوں کو اس کے نقصانات سے آگاہ کریں۔

چھوٹے بچوں کے لئیسیکنڈ ہینڈ دھواں خاص طور پر نقصان دہ ہے۔ یہ دھواں سگریٹ، پائپ یا سگار بجھ جانے کے بعد بھی کئی گھنٹوں تک ہو ا میں رہتا ہے۔ سگریٹ نوشی نہ کرنے والے افراد کے جسم میں جب سانس کے ذریعے یہ دھواں جاتاہے تو سانس کے انفیکشنز، دمہ اور سرطان کے لئے زیادہ ناتواں ہو جاتے ہیں۔

والدین اور دیکھ بھال کرنے والے دیگر افراد کو یہ جاننے کی ضرورت ہو کہ سیکنڈ ہینڈ دھوئیں کے نقصان دہ اثرات ہوتے ہیں اور انہیں یہ ذمہ داری اٹھانی چاہیئے کہ وہ بچوں کی موجودگی میں سگریٹ نوشی سے پرہیز کریں ۔ حکومت اور کمیونٹیاں مل کر لوگوں کو دھوئیں کے ماحول اور سیکنڈ ہینڈ دھوئیں کے بچوں پر مضر اثرات سے آگاہ کرنے کا کام کرسکتے ہیں۔

The Internet of Good Things