زبان: اردو

کھانسی یا زکام کا شکار بچے کے جسم کو گرم رکھنا چاہئیے اور زیادہ سے زیادہ ممکنہ حد تک کھانے اور پینے میں اس کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئیے۔

کھانسی یا زکام کا شکار بچے کے جسم کو گرم رکھنا چاہئیے اور زیادہ سے زیادہ ممکنہ حد تک کھانے اور پینے میں اس کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئیے۔

شیرخوار بچے اور چھوٹے بچے اپنے جسم کی گرمائی بہت جلد کھو دیتے ہیں ۔ جب انہیں کھانسی یا زکام ہو جائے تو انہیں ڈھانپ کر اور ان کے جسم کوگرم رکھنا چاہیئے۔

جن بچوں کوکھانسی، زکام، گلے میں خراش ہو یا ان کی ناک بہہ رہی ہومگر ان کا سانس نارمل ہو، تو ان کاگھر پر ہی علاج کیا جا سکتا ہے اور وہ کسی دوائی کے استعمال کے بغیر ہی ٹھیک ہو جائیں گے۔ ان کے جسم کو گرم رکھنے کی ضرورت ہے، مگر بہت زیادہ گرم بھی نہیں ، اور انہیں کھانے اور پینے کے لئے بہت ساری چیزیں دینی کی ضرورت ہے۔ دوائیں صرف اس صورت میں استعمال کی جائیں جب ان کی تشخیص کسی تربیت یافتہ کارکن صحت یا ڈاکٹر نے کی ہو۔

بخار میں مبتلا بچے کو احتیاط اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس بچی (یا بچے) کے جسم کو ٹھنڈی پٹیوں سے صاف کیا جائے یا ٹھنڈے پانی سے جو یخ نہ ہو، نہلایا جائے۔ بچے کو پینے کی اضافی چیزیں دیتے ہوئے اس کے جسم میں نمکیات کی مقدار کو تسلی بخش رکھاجائے۔ ایسے علاقوں میں جہاں ملیریا عام ہے، ملیریا بخار کی وجہ ہو سکتا ہے جو بچے کی صحت اور بقاء کے لئے خطرناک ہے ۔ ایسے علاقوں میں بخار والے بچوں کو فوری طور پر کسی تربیت یافتہ کارکن صحت یا ڈاکٹر سے چیک کروایا جائے۔

کھانسی اور زکام کے شکار بچے کی ناک کو اکثر صاف کیا جانا چاہیئے،خصوصاً بچے کو کھانا کھلانے اور اسے سلانے سے پہلے۔ نمی والا ماحول سانس لینے کے عمل کوآسان بنا دیتا ہے۔ اگر پیالے میں تیز گرم پانی سے، جو کھول نہ رہا ہو،بچے کو سانس کے ذریعے بھاپ دلوائی جائے تواس کے سانس لینے کے عمل کو بہتر کرنے میں مددملے گی۔ والدین اور دیکھ بھال کرنے والے دیگر افراد کو یہ یقینی بناناچاہئیے کہ پانی بہتزیادہ گرم نہ ہو اور جب بچے کو بھاپ دلوائی جا رہی ہو تو وہ بڑی احتیاط سے اس عمل کی نگرانی کر رہے ہوں۔

ماں کا دودھ پینے والے ایسے بچے کو جسے کھانسی یا زکام ہو،چھاتی سے دودھ پینے میں مشکل ہو سکتی ہے۔ چوں کہ ماں کا دودھ پلانے سے بیماری سے جنگ میں مدد ملتی ہے اور یہ بچے کی افزائش کے لئے اہم ہے، لہٰذا ماں کو چاہئیے کہ بچے کو اکثر اپنا دودھ پلانا جاری رکھے۔ اگر بچہ صحیح طرح دودھ نہیں چوس پا رہا، تو ماں اپنے ہاتھ سے اپنا دودھ ایک صاف پیالی میں نکال سکتی ہے اور پھر ماں ،باپ یا دیکھ بھال کرنے والا کوئی دیگر فرداسے پیالی سے یہ دودھ پلا سکتاہے۔ بچے کو چھاتی پر ڈالنے سے پہلے یا بچے کو ماں کادودھ (یا اس کا متبادل) پیالی سے پلانے سے پہلے بہتر ہوگا کہ بچے کی ناک کو، جو رطوبت سے بھری ہوئی ہے، اچھی طرح صاف کرلیں ۔

کھانسی اور زکام بڑی آسانی سے پھیلتے ہیں ۔ کھانسی اور زکام کا شکار لوگوں کو چاہئیے کہ وہ بچوں کے قریب کھانسنے، ناک صاف کرنے (سنکنے) یا تھوکنے سے پرہیز کریں ۔ انہیں چاہئیے کہ وہ اپنی کہنیوں کے درمیان منہ کرکے کھانسیں یا ناک صاف کریں یا کسی ٹشو سے صاف کرکے اس گندے ہو جانے ٹشو کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگادیں۔

The Internet of Good Things