زبان: اردو

زندگی کے پہلے چھ ماہ کے دوران صرف ماں کا دودھ پلانے اور چھ ماہ کے بعد ماں کا دودھ پلانا جاری رکھنے سے دستوں کی بیماری سے منسلک خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ روٹا وائرس کے خلاف حفاظتی ٹیکے (جہاں تجویز کئ

زندگی کے پہلے چھ ماہ کے دوران صرف ماں کا دودھ پلانے اور چھ ماہ کے بعد ماں کا دودھ پلانا جاری رکھنے سے دستوں کی بیماری سے منسلک خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ روٹا وائرس کے خلاف حفاظتی ٹیکے (جہاں تجویز کئے گئے اور دستیاب ہوں ) اس وائرس کی وجہ سے دستوں کی بیماری کے ذریعے ہونے والی اموات میں کمی کر سکتے ہیں۔ وٹامن ـ’اے‘ اور زنک کی گولیاں یا شربت دینے سے دستوں کی بیماری کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔

دستوں کی بیماری کے شکار ایک چھوٹے بچے کے لئے ماں کا دودھ کھانے اور پینے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ یہ غذائیت سے بھرپور اور صاف ہوتا ہے اور بیماریوں اور انفیکشنز کے خلاف جنگ میں مدد دیتا ہے۔ ایک ایسا بچہ (یا بچی) جسے اس کی زندگی کے پہلے چھ ماہ کے دوران صرف ماں کا دودھ پلایا گیا ہو، اسے اس دوران دستوں کی بیماری لاحق ہونے کے بہت کم امکانات ہوتے ہیں ۔

ماں کا دودھ نمکیات اور غذائیت کی کمی کو روکتاہے اور ضائع ہو جانے والے جسم کے پانی کی جگہ لیتاہے۔بعض اوقات ماؤں کو یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ اگر بچے کو دستوں کی بیماری لاحق ہے تو اسے اپنا دودھ کم پلائیں۔ یہ مشورہ غلط ہے۔ اگر بچے کو دستوں کی بیماری لاحق ہو تو ماؤں کو معمول سے زیادہ مرتبہ اپنادودھ پلانا چاہئیے۔

باپ کو چاہئیے کہ وہ دودھ پلانے والی ماں کی مدد کرے اور بیمار بچے اور دیگر بچوں کی دیکھ بھال کرے ،اور گھر کے کام کاج اور ذمہ داریوں میں اس کا ہاتھ بٹائے۔

روٹا وائرس دستوں کی بیماری پیدا کرتا ہے۔ ان ممالک میں جہاں حفاظتی ٹیکے لگائے جاتے ہیں ، بچوں کو روٹا وائرس کے خلاف تحفظ فراہم کیا جانا چاہئیے۔

خصوصاً ان علاقوں میں جہاں وٹامن ’اے‘ کی کمی پائی جاتی ہے، وٹامن ’اے‘ کی خوراکیں دستوں کی بیماری کے خطرے کوکم کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ وہ غذائیں جن میں وٹامن ’اے‘موجود ہوتا ہے ان میں ماں کا دودھ، کلیجی، مچھلی، دودھ، دہی، مکھن، نارنگی یا زرد رنگ کے پھل اور سبزیاں ، اورسبزپتوں والی سبزیاں شامل ہیں ۔

زنک کو 14-10دنوں تک دستوں کی بیماری کے علاج کا حصہ بنانے سے اس کی شدت اور دورانیہ کم کرنے میں مدد ملتی ہے، اور اس کا استعمال بچوں کو مستقبل میں دو ماہ تک دستوں کی ممکنہ بیماری سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ 6 ماہ سے زائد عمرکے بچوں کو روزانہ 20ملی گرام زنک (گولیاں یا شربت) دیا جاسکتاہے۔ 6 ماہ سے کم عمرکے بچوں کے لئے 10ملی گرام زنک (گولیاں یا شربت) کی خوراک موزوں رہے گی۔

تربیت یافتہ کارکن صحت کو چاہئیے کہ وہ ماں ، باپ یا دیکھ بھال کرنے والے دیگر افراد کو یہ دکھائے کہ زنک کی گولی کس طرح ماں کے اپنے ہاتھ سے نکالے گئے دودھ، او آر ایس یا پینے کے صاف پانی کی قلیل مقدار میں حل کرکے ایک چھوٹی پیالی یا چمچ کے ساتھ بچے کو دی جاتی ہے۔اگر بچہ اتنا چھوٹا ہے کہ اسے زنک کی گولی دینا مناسب نہیں ،تو اس کے لئے زنک شربت استعمال کیا جا سکتا ہے۔

The Internet of Good Things