زبان: اردو

خسرہ، دستوں کی بیماری، نمونیہ، ملیریا، غذائیت کی کمی اور بعد از پیدائش پیچیدگیاں، خصوصاً ہنگامی صورت احوال کے دوران، بچوں کی اموات کی ایک بڑی وجہ ہیں۔

خسرہ، دستوں کی بیماری، نمونیہ، ملیریا، غذائیت کی کمی اور بعد از پیدائش پیچیدگیاں، خصوصاً ہنگامی صورت احوال کے دوران، بچوں کی اموات کی ایک بڑی وجہ ہیں۔

متعدی امراض بھیڑ بھاڑ اور ہنگامی صورت احوال میں آسانی سے پھیلتے ہیں۔ ان خطرات کوکم کرنے کے لئے:

• اس بات کو یقینی بنائیں کہ 6 ماہ سے 15سال (شاید ماہ ہونا چاہئیے، چیک کر لیں) تک کی عمر کے تمام بچوں کو رابطے کی ابتدائی سطح یا گھرکے قریب ترین مرکز سے مناسب طور پر حفاظتی ٹیکے، خصوصاً خسرہ کے خلاف، لگوا دیئے گئے ہیں۔ • امراض کی روک تھام اورعلاج کے لئے حفظان صحت کی سہولتوں کا حصول جاری رکھیں۔ (’محفوظ ممتا اور نوزائیدہ کی صحت‘، ’حفاظتی ٹیکے‘، ’کھانسی، زکام اور زیادہ شدید امراض‘، اور’ ملیریا‘کے ابواب کی طرف ریفرکریں)

خوراک کی کمی، امراض میں اضافے اور دیکھ بھال کی عادات میں رکاوٹ کی وجہ سے ہنگامی صورت احوال میں غذائیت کی کمی زیادہ عام ہو جاتی ہے۔ چنانچہ اس بات کویقینی بنانااہم ہوگا کہ بچوں کو:

• ماں کا دودھ پلایا جا رہا ہے اور وہ اپنی عمر کی مناسبت سے غذائیت سے بھرپور کھانے اور پینے کی چیزوں کی کافی مقدار حاصل کر رہے ہیں۔ • ڈبہ بند خوراک کے علاوہ غذائیت سے بھرپور گولیاں وغیرہ بھی دی جار ہی ہیں۔

وہ بچے جو بہت پتلے دبلے اور / یا سوجے ہوئے ہوتے ہیں (عموماً پاؤں اور ٹانگیں) انہیں فوری تجزیئے اور علاج اور ان کی حالت کے مطابق مزید علاج کے لئے کسی تربیت یافتہ کارکن صحت یا مرکز صحت لے جانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

(’بچے کو ماں کا دودھ پلانا‘ اور ’غذائیت اور افزائش‘ کے ابواب کی طرف ریفر کریں)

ہنگامی صورت احوال میں، پینے کے صاف پانی، صحت و صفائی،اورصفائی ستھرائی کی سہولتوں کی کمی ایسے امراض کا باعث بن سکتی ہے جو وبا کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ ہیضہ ہر اس جگہ پر پھیل سکتا ہے جہاں صحت و صفائی کی حالت خراب ہو اور لوگوں کی بڑی تعداد وہاں رہتی ہو۔ ایسی صورت حال میں جو بنیادی اقدام کئے جانے چاہئیں ان میں درج ذیل شامل ہیں:

• بار بارصابن اور پانی سے یا کسی متبادل، جیسا کہ راکھ اور پانی سے ہاتھ دھونا جاری رکھیں۔ • فضلے اور کوڑے کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگا دیں۔ • کھانے کی محفوظ تیاری کی عادت ڈالیں۔ • پانی کے محفوظ ذرائع استعمال کریں یا پانی صاف کرنے کاگھر پر مبنی طریقہ اپنائیں، جیسا کہ پانی کو ابالنا، چھاننا، اس میں کلورین شامل کرنا یا اسے دھوپ میں رکھ کر اس کے جراثیم ختم کرنا۔ • پانی کو کسی صاف برتن میں اسٹور کریں، اور پانی کے برتنوں کو ڈھانپ کر رکھیں۔ (’صفائی ستھرائی‘ اور ’دستوں کی بیماری‘ کے ابواب کی طرف ریفر کریں)

The Internet of Good Things