زبان: اردو

لڑکیاں اور لڑکے، اور ان کے خاندان اور کمیونٹیوں کو چاہئیے کہ پہلے سے ایسی صورت حال کے لئے منصوبہ بندی کرتے ہوئے ہنگامی صورت احوال - گھر پر، اسکول میں اور کمیونٹی میں - کے لئے تیار رہنے کے لئے سادہ ا

لڑکیاں اور لڑکے، اور ان کے خاندان اور کمیونٹیوں کو چاہئیے کہ پہلے سے ایسی صورت حال کے لئے منصوبہ بندی کرتے ہوئے ہنگامی صورت احوال - گھر پر، اسکول میں اور کمیونٹی میں - کے لئے تیار رہنے کے لئے سادہ اقدام کر لیں۔

کسی آفت یا جھگڑے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کسی ہنگامی صورت حال کے لئے گھر کے اندر، خاندان کے تمام لوگ تیاری کر سکتے ہیں۔ ہر کسی کو آگ، زلزلے، سیلاب، طوفان اور دیگر نقصان دہ واقعات کے مختلف قسم کے خطرات، اور جھگڑوں کے دوران ممکنہ خطرات سے آگاہ ہونا چاہئیے۔ اگر خاندان اور کمیونٹی میں موجود ہر فرد جانتاہے کہ خطرات کو کیسے کم کیا جاسکتا ہے اورا پنی ذمہ داری کو اچھی طرح سمجھتا ہے تو کسی بھی خطرے کی حالت میں رد عمل زیادہ موثر ہو سکتا ہے۔

محفوظ علاقوں اور کمیونٹی میں اور کمیونٹی کے آس پاس ممکنہ خطرات کی نشان دہی کرنی چاہئیے۔ اگر ممکن ہو تو ان خطرات کو ایک مقامی نقشے کے ذریعے واضح کرناچاہئیے۔کمیونٹی کے ہر فرد کو چاہئیے کہ وہ اس کام میں شامل ہو اور وہ تمام ضروری باتوں سے واقف ہو۔ منصوبوں میں یہ بات شامل ہونی چاہئیے کہ چھوٹے بچے، بوڑھے اور دیگر لوگ جن کی حالت اچھی نہیں ہے ان کی مدد کیسے کی جانی چاہئیے۔

کمیونٹی کے وارننگ کے نظام اور علاقہ خالی کرکے خطرے سے دورجانے کے راستوں کی اچھی طرح نشان دہی ہونی چاہئیے اور سب کو ان کا علم ہونا چاہئیے۔ کمیونٹیاں اسکول میں اور خاندانوں اور محلے والوں کے ساتھ مل کر حفاظتی اقدامات کے بارے میں مشقیں منعقد کر سکتی ہیں۔

کمیونٹیوں کو یہ بات یقینی بنانی چاہئیے کہ ہنگامی صورت احوال سے نمٹنے اور اس کی نتیجے میں کی جانے والی کارروائی کے لئے صحت کی سہولتیں فراہم کرنے کا انتظام کریں۔ حفظان صحت کے عملے کو لازمی طور پر تربیت فراہم کی جائے تاکہ وہ ہنگامی صورت احوال میں کام کرنے کے لئے بالکل تیار ہوں۔

یہ بات اہم ہے کہ اسکولوں کو محفوظ جگہوں پر ہونا چاہئیے، ان جگہوں سے قریب جہاں بچے رہتے ہیں اور ان جگہوں سے دور جہاں آفات کی رسائی رہتی ہے، جیسا کہ جہاں سیلاب یا تودے گرنے کے واقعات پیش آسکتے ہوں۔ اسکولوں کی تعمیر مضبوط ہونی چاہئیے تاکہ بچوں اور ٹیچرز کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسکولوں کو بڑے محتاط انداز میں یہ انتظام کرنا چاہئیے کہ بچوں کو حملوں، اغوا یا تشدد کی دیگر اشکال سے بچایا جائے۔

ٹیچرز اور اسکول کے حکام بچوں، ان کے خاندانوں اور کمیونٹیوں کی اس بات میں مددکر سکتے ہیں،کہ:

• وہ قدرتی نقصانات اور دیگر ہنگامی خطرات کو سمجھ سکیں۔ • وہ یہ جان جائیں کہ آفت کو کیسے روکا جا سکتاہے۔ • وہ یہ جان جائیں کہ کسی ہنگامی صورت حال میں کیا کرناہے۔

بچوں سمیت، خاندانوں کی یہ حوصلہ افزائی کرنی چاہئیے کہ وارننگ کو پہچان سکیں اور یہ سمجھ سکیں کہ جب وہ کسی آفت کو دیکھیں یا اس کے بارے میں سنیں تو انہیں کیا کرنا چاہئیے۔کوئی وارننگ یا سگنل، جیسا کہ ایک سادہ سی سیٹی، ہارن یا رنگین جھنڈا یہ کام کر سکتا ہے۔ ان محفوظ جگہوں کی نشان دہی کرلینی چاہئیے جہاں خاندان اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ گھریلو جانوروں کے لئے بھی محفوظ جگہوں کی نشان دہی کی جانی چاہئیے۔ یہ احتیاطی تدابیر خاندان کو بچھڑنے سے محفوظ رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔

بچوں کی اس طرح تربیت کی جانی چاہئیے کہ انہیں اپنے اور اپنے رشتہ داروں اور اپنے گاؤں یا قصبے کا نام زبانی یاد ہو۔ انہیں یہ تربیت دی جائے کہ وہ ان جغرافیائی نشانیوں یا سنگ میل کی نشان دہی کر سکیں جوخاندان کے ممکنہ طورپر بچھڑنے کی صورت میں ان کی کمیونٹی کو تلاش کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

فیملی ایمرجنسی بیگ پہلے سے تیار ہو تو زندگی بچانے کے کام آسکتا ہے۔ اس میں ٹارچ (فلیش لائیٹ)، بیٹریاں، موم بتیاں، ماچسیں، ریڈیو، پانی کے ڈبے اور ابتدائی طبی امداد کی کٹ شامل ہونی چاہئیے۔ اس بیگ کو وقتا فوقتاً چیک کرتے رہنا چاہئیے اور کسی بھی وقت استعمال کے لئے اسے تیار رکھنا چاہئیے۔

پیدائش کا سرٹیفیکٹ اور خاندان کی دیگر اہم دستاویزات کو کسی محفوظ، آسان رسائی والی جگہ پر رکھنا چاہئیے۔ پلاسٹک یا پولی تھین میں لپیٹنے سے انہیں پانی سے محفوظ رکھنے اور ضائع ہونے سے بچانے میں مدد ملتی ہے۔

The Internet of Good Things