زبان: اردو

مائیں، یہاں تک کہ غذائیت کی کمی کی شکار مائیں بھی بچے کو اپنا دودھ پلا سکتی ہیں۔ ذہنی دباؤ کے حالات اور ہنگامی صورت احوال بھی میں وہ یہ کام کر سکتی ہیں۔

مائیں، یہاں تک کہ غذائیت کی کمی کی شکار مائیں بھی بچے کو اپنا دودھ پلا سکتی ہیں۔ ذہنی دباؤ کے حالات اور ہنگامی صورت احوال بھی میں وہ یہ کام کر سکتی ہیں۔

لوگ اکثر یہ خیال کرتے ہیں کہ ہنگامی صورت احوال کے دوران بہت سی مائیں ذہنی دباؤ یا ناکافی غذائیت کی وجہ سے بچوں کو اپنا دودھ پلانے کے قابل نہیں رہتیں۔ یہ ایک غلط تصور ہے - یہ درست نہیں ہے۔ خوراک کی کمی کا شکار مائیں یا وہ مائیں جنہیں غذائیت کی کمی کا سامناہوتا ہے، ایسی حالت میں بھی بچوں کو اپنے دودھ کی خاصی مقدار پلا سکتی ہیں۔ ان کی صحت اور بہبود اور ان کے بچے کو تحفظ دینے کی خاطر انہیں کھانے اور پینے کی اضافی چیزیں دینی چاہئیں۔ باپ اور خاندان کے دیگر افراد کھانا پکانے اور بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہوئے بچوں کو اپنا دودھ پلانے والی ماؤں کی مددکرسکتے ہیں۔

ذہنی دباؤ، ماں کے دودھ کے بہاؤمیں عارضی خلل پیدا کر سکتا ہے۔ لیکن اگر مائیں اور شیر خوار بچے یک جا رہیں اور انہیں بچے کو ماں کا دودھ پلانے کا آغاز کرنے اور جاری رکھنے میں مدد دی جائے تو ماں کے دودھ کی پیداوار کم ہونے کا احتمال نہیں ہوتا۔ امن کی محفوظ جگہیں، جیسا کہ مہاجر کیمپس اور پناہ گاہیں، قائم کی جا سکتی ہیں جہاں عورتیں جا کر مددحاصل کر سکتی ہیں۔

کچھ کیسوں میں بچے کو ماں کا دودھ پلانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان میں بچے کا عارضی یا مستقل طورپر اپنی ماؤں سے بچھڑ جانا، ماؤں کا بہت زیادہ بیمار ہو جانا، ماؤں کا کچھ عرصے کے لئے بچے کو اپنا دودھ پلانا بند کر دینا، ماؤں کا بچے کو دوبارہ اپنا دودھ پلانے کاآغاز نہ کر سکنا، اور ایسی ایچ آئی وی مثبت مائیں شامل ہیں جو بچے کو اپنا دودھ پلانے کا انتخاب نہیں کرتیں۔

ان حالات میں، 12 ماہ سے کم عمر کے بچوں کے لئے، مناسب ترین غذا اعلیٰ معیار کا ماں کے دودھ کا متبادل (شیر خوار فارمولہ) دودھ ہوتا ہے۔ ماں کے دودھ کا متبادل دودھ محفوظ طریقے سے تیار کرنے کے لئے ایندھن، پینے کا صاف پانی اور آلات، اور ترجیحی طور پر کسی تربیت یافتہ کارکن صحت کی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماں کے دودھ کے متبادل دودھ کو صفائی ستھرائی سے اسٹور کرنا اور تیار کرنا چا ہیئے اور اس تیاری میں محفوظ ذریعے سے حاصل کرد ہ پانی، پیالی (بوتل نہیں ) استعمال کرنی چاہئیے۔

ماں کے دودھ کے متبادل دودھ کو کبھی بھی کھانے کی دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ اور اس کی محفوظ تیار ی پر توجہ دیئے بغیربے قابو انداز میں نہیں پلانا چاہئیے۔ انہیں بچے کو ماں کا دودھ پلانے کا عمل نہیں روکناچاہئیے، جو کسی بھی ہنگامی صورت میں بیماری کے خلاف شیر خوار بچے کا بہترین تحفظ ہے۔

The Internet of Good Things