زبان: اردو

وبائیں اور ایسے حالات میں پھوٹ پڑنے والے امراض، مرض کی شدت یا اس پر رد عمل کی وجہ سے، ہنگامی صورت حال کی وجہ بن سکتے ہیں۔وبائی انفلوانزا اور دیگر امراض کی صورت میں جو کسی کے ساتھ ذاتی رابطے سے پھیل س

وبائیں اور ایسے حالات میں پھوٹ پڑنے والے امراض، مرض کی شدت یا اس پر رد عمل کی وجہ سے، ہنگامی صورت حال کی وجہ بن سکتے ہیں۔وبائی انفلوانزا اور دیگر امراض کی صورت میں جو کسی کے ساتھ ذاتی رابطے سے پھیل سکتے ہیں، ان مراض میں مبتلالوگوں کو دیگر لوگوں سے دور رکھنا چاہئیے۔

کسی مرض کے پیدا ہونے کے اثر کا انحصار مرض کی شدت اور اس کے ساتھ ساتھ حکومت، کمیونٹیوں اور انفرادی لوگوں کے رد عمل پر ہوتا ہے۔

نئے وائرس پر مشتمل وبائی انفلوانزا، ایک ایسی آبادی میں بڑی تیزی سے پھیل سکتا ہے جو نئے وائرس کے خلاف بہت کم مدافعت رکھتی ہو۔ انفلوانزا بیماری اور اس کی وجہ سے ہونے والی موت کے حوالے سے درمیانے یا شدید درجے کا ہو سکتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ مرض بار بار پیدا اور ختم ہو سکتا ہے۔ اس کی شدت کی سطح وبا کے دوران تبدیل ہو سکتی ہے، اور اس کی پیش گوئی سے قاصر ہو سکتی ہے۔ عام طور پر اس وبا ئی انفلوانزاکے اثرات موسمی انفلوانزا کی نسبت کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔

سالانہ یا موسمی انفلوانزا زیادہ تر 65سال سے زائد عمر کے لوگوں کی موت کی وجہ بنتا ہے۔وبائی انفلوانزا نوجوان عمر کے لوگوں میں شدید بیماری اور اموات کی وجہ بنتا ہے۔ موسمی اور وبائی انفلوانزا دونوں میں، حاملہ عورتیں اور 2سال سے کم عمر کے بچوں کو پیچیدگیوں اور موت کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ بڑے بچوں میں انفیکشن کی شرح تو زیادہ ہو سکتی ہے لیکں اس کے نتائج زیادہ شدید نہیں ہوتے۔

انفلوانزا کی علامات میں تیز بخار، کھانسی، گلے میں خراش، بدن کا دکھنا، سر درد، سردی لگنا، تکان، قے اور دست شامل ہوتے ہیں۔ کچھ کیسوں میں، انفلوانزا نمونیے اور سانس میں گھٹن کو وجہ بن سکتا ہے۔

انفلوانزا یا دیگر انفیکشن کے پھیلاؤ کے دوران، بچوں اور خاندانوں کے تحفظ میں مدد دینے کے لئے کچھ عام اقدام یہ ہیں:

• بیماری کی صورت میں گھر پر رہیں، اور دوسروں کے قریب مت جائیں۔ • علامات اور خطرے کی نشانیوں کے بارے میں معلوم کریں، اور یہ کہ بیماری شدید ہو جائے تو مدد حاصل کرنے کے لئے کیا کرناہے اور کہاں جانا ہے۔ • اکثر اپنے ہاتھ صابن اور پانی سے دھوتے رہیں، اور ان سطحوں کو صاف رکھیں جہاں کھانا تیار کیا جاتا ہے۔ • کہنیوں میں منہ د ے یا ٹشو رکھ کر کھانسیں اور چھینکیں، اور ٹشو کو محفوظ اندازمیں ٹھکانے لگا دیں۔ • بچوں کے نزدیک یا جگہ جگہ پر مت تھوکیں۔

کسی ایسے انفیکشن کے پھیلنے پر جس کے نتائج سنگین ہوں، یہ بات اہم ہو گی کہ دوسروں کے ساتھ گہرا رابطہ کم کر دیں:

• دیگر لوگوں سے کم از کم ایک میٹر دور رہیں، خاص طور پر ایسے لوگوں سے جو کھانس رہے ہوں یا چھینک رہے ہوں یا بیمار نظر آرہے ہوں۔ • جس حد تک ممکن ہو سکے گھر پر رہیں اور عوامی اجتماعات اور سفر سے پرہیز کریں۔

اگر یہ مرض زیادہ پھیل جائے، تو کچھ انفرادی لوگوں کو علاج کے لئے یا اس انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے کسی اسپتال میں الگ تھلگ رکھنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر ایسے لوگوں کی تعداد زیادہ ہوتو، دیکھ بھال تک رسائی محدود ہو سکتی ہے۔

بیمار لوگوں کی گھر پر دیکھ بھال کے لئے اور گھر میں انفیکشن کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لئے:

• بیمار لوگوں کو گھر پر ایک علیحدہ جگہ پر رکھیں۔ • ایک بیمار فرد کے لئے صرف ایک فرد کو دیکھ بھال کے فرائض انجام دینے دیں۔ • بیمار فرد کو کھانے اور پینے کی بہت ساری چیزیں دیں۔

The Internet of Good Things