زبان: اردو

ہنگامی صورت احوال میں، بچوں کو وہی حقوق حاصل ہوتے ہیں جو انہیں غیر ہنگامی صورت احوال میں حاصل تھے۔ یہ ایک حقیقت ہے، چاہے ہنگامی صورت حال ایک جھگڑے، آفت یا وبا کی صورت میں ہو۔

ہنگامی صورت احوال میں، بچوں کو وہی حقوق حاصل ہوتے ہیں جو انہیں غیر ہنگامی صورت احوال میں حاصل تھے۔ یہ ایک حقیقت ہے، چاہے ہنگامی صورت حال ایک جھگڑے، آفت یا وبا کی صورت میں ہو۔

تمام بچوں اور ان کے خاندانوں اورکمیونٹیوں کویہ حق حاصل ہے کہ وہ ہنگامی صورت احوال میں انسانی امداد حاصل کریں۔

ان بچوں اور ان کے خاندانوں کو، جنہیں جھگڑوں اور آفات میں زبردستی گھر چھوڑ کر جانے پر مجبورکیا جاتاہے، بھی وہی حقوق حاصل ہیں جو ان لوگوں کو حاصل ہوتے ہیں جو غیر ہنگامی صورت احوال میں اپنے گھروں اور کمیونٹیوں میں رہتے ہیں۔ ٍ
کمیونٹیاں شہریوں اور بیماروں کے لئے محفوظ علاقے مختص کر سکتی ہیں۔ یہ بات بہت ضروری ہے کہ ان علاقوں کو کسی بھی قسم کے فوجی مقاصد کے لئے استعمال نہ کیا جائے۔

انسانی امدادی کارکنان اور سامان کا ہمیشہ احترام کیا جانا اور ان کا تحفظ کیا جانا چاہئیے۔ جنگجوؤں کو چاہئیے کہ وہ تمام شہری لوگوں کو انسانی امداد تک رسائی حاصل کرنے دیں۔

ہنگامی صورت احوال میں عورتوں اورنوجوان بالغ لڑکیوں کی خصوصی ضروریات کا لازمی احترام کیا جانا چاہئیے۔ خلوت، صفائی ستھرائی،اور تحفظ کے لئے ان کی مخصوص ضروریات کا لازمی خیال رکھنا چاہئیے۔ لاوارث یا اکیلے بچوں، حاملہ عورتوں، چھوٹے بچوں کے ساتھ ماؤں، گھرانے کی سربراہ عورتوں، معذور افراد، اور بوڑھے لوگوں کو ان کی خصوصی ضروریا ت پوری کرنے کے لئے مخصوص توجہ کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

جب ایک ہی ملک میں بچے اور ان کے خاندان بے گھر ہوجاتے ہیں، تو قومی حکام کی یہ بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ بچوں کے حقوق کا تحفظ کریں اور بچوں اور ان کے خاندانوں کو مددفراہم کریں۔دیگر اداروں کے علاوہ، اقوام متحدہ، غیرسرکاری تنظیمیں، اور ریڈ کراس کی بین الاقومی کمیٹی) (ICRC کو بچوں اور خاندانوں کو مدد اور تحفظ فراہم کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔

بے گھر افراد کو یہ حق حاصل ہے کہ اگر ان کی بحالی میں رکاوٹ کی کوئی وجہ یا مسئلہ باقی نہیں رہا تو انہیں جلد سے جلد ان کے گھروں میں واپس بحال کر دیا جائے۔بے گھر ہونے والے افراد کی جائیداد کے حقوق کا احترام لازم ہے تاکہ بچے اور ان کے خاندان دوبارہ اپنی زندگی کا آغاز کر سکیں۔

جب کسی ہنگامی صورت حال کے بعد کمیونٹیاں تعمیر نو اور اپنے آپ کو دوبارہ بسانا شروع کرتی ہیں ، تو ان کے بچوں، عورتوں اور خاندانوں کو صحت اور تعلیم سمیت سماجی خدمات فراہم کرنے پر توجہ دینی چاہئیے۔

وہ انسانی کارکن جو شہریوں کو امداد فراہم کرتے ہیں، انہیں چاہئیے کہ تشدد، استحصال اور بدسلوکی کے مواقع کو کم سے کم کریں۔ انسانی کارکنوں کی کوئی بھی ایسی سرگرمی جو متاثرہ آبادی کا استحصال کرتی ہو، فوری طور پر متعلقہ ادارے اور حکام کے علم میں لانی چاہئیے۔

The Internet of Good Things