زبان: اردو

ان تمام بچوں کا ایچ آئی وی ٹیسٹ کروانا چاہئیے جو ایچ آئی وی مثبت ماؤں کے ہاں پیدا ہوئے ہیں یا ان کے والدین میں ایچ آئی وی انفیکشن سے منسلک علامات یا صورت احوال پائی جاتی ہیں۔ اگر وہ ایچ آئی وی م

ان تمام بچوں کا ایچ آئی وی ٹیسٹ کروانا چاہئیے جو ایچ آئی وی مثبت ماؤں کے ہاں پیدا ہوئے ہیں یا ان کے والدین میں ایچ آئی وی انفیکشن سے منسلک علامات یا صورت احوال پائی جاتی ہیں۔ اگر وہ ایچ آئی وی مثبت پائے جائیں، تو انہیں فالو اپ دیکھ بھال اور علاج کے لئے ریفر کرنا چاہئیے اور ان کی پیا ر محبت سے دیکھ بھال اور مدد کرنی چاہیئے۔

جتنی جلد بچے کا ٹیسٹ کروا لیا جائے، ایچ آئی وی کی تشخیص ہوجائے اور ایچ آئی وی کا علاج شروع کروادیا جائے، اتنا ہی اس بچے یا بچی کی بقاء اور زیادہ عرصے تک صحت مند زندگی گزارنے کے امکانات بہتر ہو ں گے۔

حفظان صحت کی سہولت فراہم کرنے والوں کو چاہئیے کہ وہ ایسے تمام بچوں، نوجوان بالغوں اور بالغوں کے لئے جن میں ایچ آئی وی کی نشانیاں، علامات یا طبی حالات پائے جاتے ہوں جو ایچ آئی وی انفیکشن کی موجودگی ظاہر کر تے ہوں یا جن لوگوں کو ایچ آئی وی مثبت ہونے کا احتمال ہوسکتا ہے، ان کے لئے ایچ آئی وی ٹیسٹنگ اور مشاورت کی معیاری دیکھ بھال کی سفارش کریں۔ایسے تمام علاقوں میں جہاں ایچ آئی وی کی وبا عام ہو، صحت کی سہولتوں میں تمام بچوں کے لئے ایچ آئی وی کی ٹیسٹنگ اور مشاورت کی سفارش کی جانی چاہیئے۔

ایک ایسا بچہ جس کی ماں کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ وہ ایچ آئی وی مثبت ہے، پیدائش کے چھ ہفتوں کے دوران یا جتنی جلد ممکن ہو سکے اس کا ایچ آئی وی ٹیسٹ کروالینا چاہیئے۔ شیر خوار بچوں کے جسم میں پیدائش کے بعد کچھ ہفتوں تک جسم مخالف جراثیم (اینٹی باڈیز) موجود رہتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے لئے معیاری اینٹی باڈیز ٹیسٹ درست نہیں ہو سکتے۔ ایک خصوصی پولی میریز چین ری ایکشن (PCR) ٹیسٹ کروانے کی ضرورت ہوتی ہے جو تقریباً چھ ماہ کی عمر کے بچوں میں وائرس کی موجودگی کی اطلاع دے سکتا ہے۔ اگر یہ ٹیسٹ مثبت ہو تو بچے کا فوری علاج شروع کروانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ حفظان صحت کی سہولت فراہم کرنے والے خاندان کی مدد کرتے ہوئے بچے کے لئے موزوں اور مناسب اینٹی ریٹرووائرل علاج تجویز کر سکتے ہیں۔ والدین کو چاہئیے کہ وہ مشاورت اور سماجی خدمات حاصل کریں۔

بچوں کے لئے ایچ آئی وی دیکھ بھال اور اینٹی ریٹرووائرل علاج (ART)کا ایک اہم حصہ اینٹی بائیٹک کوٹریموکسازول (cotrimosazole)ہے۔ یہ ایچ آئی وی سے متعلق ’موقع پرست‘، خصوصاً PCP (pneumocystis pneumonia) کی روک تھام میں مدد دیتی ہے۔ اس علاج کو کوٹریموکسازول کے ذریعے روک تھام کا علاج، یا CPT کہا جاتا ہے۔

ایچ آئی وی کا شکار بچوں کو ARTکی طے شدہ خوراک دینی چاہیئے۔ یہ خوراکیں کوئی ایساتربیت یافتہ کارکن صحت یا ڈاکٹر تجویز کرے جو فالو اپ مدد بھی فراہم کر سکتا ہو۔ اگر بچہ اسکول جاتا ہے، تو اسکول والے بھی یہ مدد فراہم کر سکتے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ بچہ اسکول میں ہونے کے باوجود دوائیاں لے رہا ہے۔

بچوں کو تجویزکردہ اوقات کے مطابقARTکی دوائیں لینے کی حوصلہ افزائی کرنا بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اس طرح اس بات کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی کی علاج موثر انداز میں جاری ہے۔

بچوں کوکسی بھی صورت حال میں ایک صحت مند اور متوازن غذا کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن جب وہ ARTعلاج حاصل کر رہے ہوں، تو موزوں غذائیت کا حصول یقینی بنانا خاص طور پر اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔

ممکن ہے کہ ایچ آئی وی یا موقع پرست انفیکشنز بھوک کی کمی، نگلنے میں مشکل یا ہاضمے کی خرابی کی بنا پر خوراک کا استعمال کم کر دیں۔ چنانچہ، ایسے بچوں کی غذائیت پر اضافی توجہ دینی چاہئیے جو ایچ آئی وی مثبت ہوں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ انہیں اعلیٰ معیار کی آسانی سے ہضم ہونے والی کھانے کی چیزیں دی جا رہی ہیں۔ موزوں غذائیت کے بغیر، ان کی افزائش اور ذہنی و جسمانی نشوونماء متاثر ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت حال میں مزید موقع پرست انفیکشنز کا خطرہ ہو سکتا ہے جو بچے کی توانائی میں کمی پیدا کریں گے اور اس کی غذائی ضروریات میں اضافہ کریں گے۔

جب ایک مرتبہ ایچ آئی وی مثبت بچے اتنے بڑے ہوجائیں کہ ان باتوں کو سمجھنے لگیں، تو انہیں ان کی طبی دیکھ بھال اور مدد کے بارے میں کئے جانے والے فیصلوں میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہیں فوری دیکھ بھال اورانفیکشنزکے علاج کی اہمیت سے بھی آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ عمل ان میں مستقبل میں صحت مند فیصلے کرنے کی قابلیت پیدا کرنے کے عمل کا ایک اہم حصہ ہے۔

The Internet of Good Things