زبان: اردو

ایچ آئی وی (انسانی قوت مدافعت ختم کرنے والا وائرس)، ایک ایسا وائرس ہے جو ایڈز(قوت مدافعت میں کمی کی علامات) کا باعث بنتا ہے۔ یہ قابل علاج ہے اوراس کی روک تھام بھی ممکن ہے لیکن اس کا مکمل خاتمہ ممکن

ایچ آئی وی (انسانی قوت مدافعت ختم کرنے والا وائرس)، ایک ایسا وائرس ہے جو ایڈز(قوت مدافعت میں کمی کی علامات) کا باعث بنتا ہے۔ یہ قابل علاج ہے اوراس کی روک تھام بھی ممکن ہے لیکن اس کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔لوگ درج ذیل ذرائع سے ایچ آئی وی سے متاثر ہو سکتے ہیں : (1) ایچ آئی وی سے متاثرہ کسی فرد سے غیر محفوظ قربت کے تعلقات (مردانہ یا زنانہ کنڈوم کے بغیرقربت کے تعلقات) ؛ (2) ایچ آئی وی سے متاثرہ ماں سے حمل، بچے کی پیدائش یا ماں کا دودھ پلانے کے دور ان اس کے بچے کو ؛ اور(3) ایچ آئی وی سے آلودہ سرنج، سوئی سے انتقال خون یا آلودہ آلات جراحی کے استعمال اور ایچ آئی وی سے متاثرہ کسی فرد کے خون کی کسی اور فرد کومنتقلی۔ایچ آئی وی عمومی روابط یا دیگر ذرائع سے منتقل نہیں ہوتا۔

ایچ آئی وی سے متاثرہ لوگ عموماً کئی برسوں تک مرض کی کسی بھی قسم کی علامات کے بغیر زندہ رہتے ہیں۔ ممکن ہے وہ صحت مند نظر آئیں اور اپنے آپ کو صحت مندمحسوس بھی کریں مگر اس کے باوجود وہ یہ وائرس دوسروں کو منتقل کر سکتے ہیں۔اینٹی ریٹرووائرل تھراپی (ART)، یعنی ایچ آئی وی کے علاج کے لئے استعمال ہونے والی دواؤں کا بروقت آغازکسی فرد کو ایچ آئی وی سے ایک سنگین مرض کے طورپر نمٹنے اور قدرے صحت مندزندگی گزارنے کا موقع مل جاتا ہے۔

ایڈز، ایچ آئی وی انفیکشن کا آخری درجہ ہے۔ ایڈز کا شکار لوگ کمزور ہوجاتے ہیں کیوں کہ ان کا جسم بیماریوں سے لڑنے کی قابلیت کھو دیتا ہے۔ ایسے بالغ لوگوں میں، جو اینٹی ریٹرووائرل علاج نہیں کروا رہے، وہ ایچ آئی وی سے متاثرہونے کے بعد اوسطاً 10-7 سال کے اندر ایڈز میں مبتلاہوجاتے ہیں۔ چھوٹے بچوں میں یہ مرض زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔ ایڈزکا کوئی علاج نہیں ہے، لیکن نئی دوائیں ایڈز میں مبتلا لوگوں کو زیادہ دیر تک زندہ رہنے میں مدددے سکتی ہیں۔

بہت سے کیسوں میں، ایچ آئی وی، قربت کے غیر محفوظ تعلقا ت کی وجہ سے ایک فردسے دوسرے فرد میں منتقل ہوتاہے، جس کے دوران ایک متاثرہ فرد کا نطفہ، تولیدی مادہ یا خون،دوسرے فرد کے جسم میں منتقل ہو جاتاہے۔ ا سٹریلائزڈ نہ کی گئی، ایچ آئی وی سے آلودہ سوئیوں اور سرنجوں ( زیادہ تر نشے کے عادی لوگ ایک دوسرے کی استعمال شدہ سوئیاں اور سرنجوں کو استعمال کرتے ہیں )، بلیڈز، چھریاں یا انجکشن کے دیگر آلات، آلات جراحی کے استعمال کے ذریعے یہ وائرس ایک فرد سے دوسرے فرد کو منتقل ہو سکتا ہے۔

انتقال خون میں متاثرہ خون کے استعمال سے بھی کوئی دوسرا فرد ایچ آئی وی سے متاثر ہو سکتاہے۔انتقال خون کے لئے استعمال کئے جانے والے کسی بھی خون کو پہلے ایچ آئی وی کے لئے اسکرین کر لینا چاہیئے۔

شیر خوار اور چھوٹے بچوں میں ایچ آئی وی ابتدائی طور پر متاثرہ ماں سے حمل، بچے کی پیدائش کے دوران یا بچے کو دودھ پلانے کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔

ایچ آئی وی سے متاثرہ لوگوں کے ساتھ کام کرنے، ان کے ساتھ سماجی تعلقات رکھنے یا ان کے ساتھ رہنے سے ایچ آئی وی کی منتقلی ممکن نہیں ہے۔ ایچ آئی وی سے متاثرہ لوگوں کو چھونے، ان سے گلے ملنے، ہاتھ ملانے، ان کے کھانسنے یا چھینکے سے یہ مرض نہیں پھیلتا۔ ایک دوسرے کی ٹائیلٹ سیٹس، ٹیلی فون، پلیٹیں، پیالیاں، کھانے کے برتن، تولیے، بستر کی چادریں، سوئمنگ پولز یا عوامی غسل خانوں کے استعمال سے بھی ایچ آئی وی نہیں پھیلتا۔ ایچ آئی وی مچھر یا دیگر کیٹرے مکوڑوں کے ذریعے نہیں پھیلتا۔

The Internet of Good Things