زبان: اردو

تمام حاملہ عورتوں کو چاہئیے کہ وہ اپنے متعلقہ حفظان صحت کی سہولت فراہم کرنے والوں سے ایچ آئی وی کے بارے میں بات کریں۔ وہ تمام حاملہ عورتیں جن کا یہ خیال ہے کہ وہ، ان کے ساتھی ( پارٹنرز)یاخاندان کے ا

تمام حاملہ عورتوں کو چاہئیے کہ وہ اپنے متعلقہ حفظان صحت کی سہولت فراہم کرنے والوں سے ایچ آئی وی کے بارے میں بات کریں۔ وہ تمام حاملہ عورتیں جن کا یہ خیال ہے کہ وہ، ان کے ساتھی ( پارٹنرز)یاخاندان کے ارکان ایچ آئی وی سے متاثرہ ہیں، انہیں ایچ آئی وی کا سامنا ہے یا وہ ایچ آئی وی کی وبا کے عام ماحول میں رہ رہے ہیں، تو انہیں چاہئیے کہ وہ ایچ آئی وی کا ٹیسٹ کروائیں اور یہ جاننے کے لئے کہ انہیں اپنے آپ کو، اپنے بچوں، ساتھیوں اور خاندان کے ارکان کو کس طرح محفوظ رکھنا یا دیکھ بھال کرنی ہے، مشاورت حاصل کرنی چاہیئے۔

ماں سے بچے کو ایچ آئی وی کی منتقلی کو کم کرنے کا سب سے زیادہ موثر طریقہ یہ ہے کہ عورتوں کو ایچ آئی وی انفیکشن سے محفوظ رکھا جائے۔ ایچ آئی وی کی منتقلی کو روکنے میں خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات، اور عورتوں اور مردوں کے کنڈومز تک رسائی بہت اہمیت کی حامل ہے۔

بہت سے ممالک میں، عورتیں صرف دوران حمل ہی صحت کی سہولتیں حاصل کرتی ہیں۔ یہ عمل انہیں ایچ ّآئی وی ٹیسٹ اور مشاورت کے لئے ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے چاہے وہ اس مرض کے بڑی سطح یا کم سطح والے علاقوں میں رہائش پذیر ہوں۔ اگر کوئی عورت ایچ ّآئی وی مثبت پائی جائے، تو اسے مشاورت، ریفرل، ایچ ّآئی وی دیکھ بھال اور علاج، اور حفظان صحت کی دیگر سہولتوں تک رسائی حاصل ہونی چاہیئے۔ ماں کو حاصل حفظان صحت اور امدادی سہولتیں ماں سے بچے میں ایچ آئی وی کی منتقلی کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

ایچ آئی وی مثبت عورت کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئیے کہ وہ اپنے شریک حیات اور دیگر بچوں کے لئے ٹیسٹ اور مشاورت کی سہولت حاصل کرے۔ اگر ان میں سے کسی ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آجائے، تو انہیں ایچ آئی وی دیکھ بھال، علاج، اور دیگر روک تھام کے ساتھ ساتھ حفظان صحت کی دیگر سہولتیں بھی پیش کی جانی چاہیئں۔

ایچ آئی وی سے متاثرہ ایک حاملہ ماں اینٹی ریٹرووائرل دوائیں لے سکتی ہے۔ یہ عمل اس کی اپنی صحت کو بہتر کرنے اور اس کے بچے کو وائرس کی منتقلی کے امکانات کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

اگر حاملہ مائیں حمل اور بچے کی پیدائش کے بعد پہلے چھ ماہ کے دوران مشاورت، حفظان صحت کی جامع سہولتیں اور اینٹی ریٹرووائرل علاج کروائیں تو شیر خوار بچوں میں ایچ آئی وی کی منتقلی کے خطرے کو 2فی صد سے کم کرنا ممکن ہے۔یہ عمل اکثر ’’ماں سے بچے کومنتقلی کی روک تھامPMTCT ‘‘نامی ایک جامع پروگرام کا حصہ ہوتا ہے۔

ایک نوزائیدہ بچے کی ایچ آئی وی سے متاثرہ ماں کو اپنے بچے کے لئے بہترین فیڈنگ ترجیح کے انتخاب کے لئے معلومات اور مہارتیں فراہم کی جانی چاہیئں۔ اسے نوزائیدہ بچے اور خود اپنے لئے غذائیت اور حفظان صحت پر مشاورت حاصل کرنی چاہئیے اور اپنے بچے کے لئے ایچ آئی وی ٹیسٹ اور ایچ آئی وی کے خلاف علاج میں اس کی مدد کرنی چاہیئے۔ اسے بتایا جانا چاہئیے کہ ایسی ایچ آئی وی مثبت ماؤں کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں میں،جنہوں نے دوران حمل اینٹی ریٹرووائرل دوائیں استعمال نہیں کی تھیں، تین میں سے ایک کو پیدائشی طور پر ایچ آئی وی سے متاثر ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔ اگر کوئی علاج نہ کروایا جائے، تو ایچ آئی وی مثبت پیدا ہونے والوں میں نصف بچے 2سال کی عمر حاصل کرنے سے پہلے ہی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

ایچ آئی وی سے متاثرہ ایک حاملہ عورت کو یہ جاننے کی ضرورت ہوتی ہے، کہ:

• دوران حمل مخصوص دوائیں (اینٹی ریٹرووائرل ادویات) لینے سے اس کی صحت کو بہتر کرنے اور شیر خوار بچے کو انفیکشن منتقل کرنے کے خطرے کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ • قبل از پیدائش اور بعد از پیدائش دیکھ بھال شیر خوار بچے کو انفیکشن منتقل کرنے کے خطرے کو کم کرسکتی ہے، جیسا کہ بچے کے پیدا ہونے سے قبل اور اس کے بعد تربیت یافتہ دایہ یا مڈ وائف سے ملاقات کرنا اور دوران حمل اور بچے کی پیدائش پر دیکھ بھال حاصل کرنا۔ • ایچ آئی وی کے خطرے سے دوچار نوزائیدہ بچوں کو 4اور 6ہفتے کی عمر کے دوران کوٹریموکسازول (Cotrimoxazole) یا بیکٹرم (Bactrim) شروع کروانے اور اسے اس وقت تک جاری رکھنے سے جب تک کہ ایچ آئی وی انفیکشن ہمیشہ کے لئے ختم نہیں ہو جاتا، ’موقع پرست‘ انفیکشنز ( وہ انفیکشنز جو جسم میں قوت مدافعت کی کمی کا فائدہ اٹھا کر لاحق ہو جاتے ہیں ) کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔ • شیر خوار بچوں کے لئے بہت سی فیڈنگ عادات موجود ہیں، ان میں ہر ایک کے کچھ فوائد اور کچھ نقصانات ہیں۔

ماں کو یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ فیڈنگ کی کون سی عادت اس کے حالات کے مطابق محفوظ ترین اور زیادہ آسان ہے:

• بچے کی زندگی کے پہلے چھ ماہ کے لئے بچے کو صرف ماں کا دودھ پلانے سے نوزائیدہ بچہ دستوں کی بیماری، نمونیہ اور غذائیت کی کمی کی وجہ سے ہونے والی موت سے محفوظ رہتا ہے۔ تاہم ماں کے دودھ کے ذریعے ایچ آئی وی انفیکشن کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ ملی جلی فیڈنگ (ماں کے دودھ کے ساتھ کھانے پینے کی دیگر چیزیں ) کی نسبت شیر خوار بچے کو صرف ماں کا دودھ پلانے سے ایچ آئی وی انفیکشن کی منتقلی کا خطرہ بہت کم ہوتا ہے۔ یہ خطرہ مزید کم کیا جا سکتا ہے جب ایک مرتبہ ماں کا دودھ پلانے کی مدت کم کرتے ہوئے کوئی ایسی غذائیت سے بھرپور موزوں غذا فیڈ کرانی شروع کردی جائے جس کے بعد ماں کا دودھ پلانے کی ضرورت ہی نہ ہو۔ • صرف ماں کے دودھ کا متبادل (شیر خوار فارمولہ) فیڈ کرانے سے ماں کے دودھ کے ذریعے ایچ آئی وی کی منتقلی کا خطرہ بالکل ختم ہو جاتا ہے لیکن ایسا کرنے سے بچے کو، خصوصاً زندگی کے پہلے 6 ماہ کے دوران دستوں کی بیماری یا نمونیہ جیسے انفیکشن سے موت کا خطرہ بہت حد تک بڑھ جاتا ہے۔ یہ ترجیح اس صورت میں اچھی ثابت ہو سکتی ہے جب ماں پینے کے صاف پانی تک رسائی اور فارمولہ دودھ کم از کم ایک سال تک خریدنے کی استطاعت رکھتی ہو، اور وہ شیر خوار فارمولے کا استعمال اس کے اور اس کی کمیونٹی کے لوگوں کے لئے قابل قبول ہو۔ • شیر خوار فارمولہ اور دیگر دودھ اور غذاؤں سمیت محفوظ اورکافی غذائی متبادل ملنے تک 6ماہ کی عمر کے بعد بھی بچے کو ماں کا دودھ جاری رکھنا چاہیئے۔ جب ایک مرتبہ کوئی موزوں اور محفوظ غذائی ترجیح حاصل ہو جائے تو پھر ماں کا دودھ بالکل چھڑا دینا چاہیئے۔ • ان تمام شیر خوار بچوں کو،جو چاہے ماں کا دودھ پی رہے ہیں یا ماں کے دودھ کا کوئی متبادل، 6ماہ کی عمر کے بعد غذائیت سے بھرپور کھانے پینے کی دیگر چیزیں بھی دینے کی ضرورت ہے جو ان کی افزائش اور ذہنی و جسمانی نشوونماء میں مدد کے لئے درکار توانائی اور غذائیت کے حصول کے لئے ضروری ہیں۔

(مزید معلومات کے لئے ’بچے کو ماں کا دودھ پلانا‘ کے باب میں پیغام 6 کی طرف ریفر کریں)

The Internet of Good Things