زبان: اردو

والدین، ٹیچرز، ہم عصر رہنماؤں اور دیگر رول ماڈلز کو چاہئیے کہ وہ نوجوان بالغوں کو ایک محفوظ ماحول اور زندگی کی مہارتوں کی ایک ایسی رینج فراہم کریں جو انہیں صحت مند ترجیحات اپنانے اور صحت مند رویئے پ

والدین، ٹیچرز، ہم عصر رہنماؤں اور دیگر رول ماڈلز کو چاہئیے کہ وہ نوجوان بالغوں کو ایک محفوظ ماحول اور زندگی کی مہارتوں کی ایک ایسی رینج فراہم کریں جو انہیں صحت مند ترجیحات اپنانے اور صحت مند رویئے پر عمل کرنے میں مدد دے سکے۔

بچوں کے لئے یہ بات اہم ہے کہ وہ ابتدائی عمر میں ہی ایچ آئی وی کے بارے میں آگہی حاصل کریں۔ جب بچے نوجوان بالغوں کا روپ دھا ر لیتے ہیں تو انہیں صحت مند زندگی کے لئے اپنی ترجیحات طے کرنے کے لئے درست اور مکمل معلومات کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسا کرنے سے انہیں ایچ آئی وی انفیکشن اور دیگر جنسی بیماریوں سے پرہیز میں مدد ملے گی۔

نوجوان بالغوں کو زندگی کی وہ مہارتیں سیکھنے میں مدد کی ضرورت ہوتی ہے جو انہیں ایسی صورت احوال میں تحفظ فراہم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں جو انہیں ایچ آئی وی انفیکشن کے خلاف ناتواں کر سکتی ہیں۔ ان مہارتوں میں مسائل کا حل، فیصلہ سازی، ہدف طے کرنا، اہم سوچ، رابطہ، اپنی بات منوانا، اور خود آگہی شامل ہیں۔ نوجوان بالغوں کو دباؤیا جھگڑے کی صورت احوال سے نمٹنے کی مہارتیں جاننے کی ضرورت ہے۔

نوجوان بالغ اور نوجوان لوگ رہنمائی کے لئے والدین، ٹیچرز، ہم عصر قائدین اور دیگر رول ماڈلز کی جانب دیکھتے ہیں۔ ان رول ماڈلز کو چاہئیے کہ وہ اپنی آگہی کی بنیاد ایچ آئی وی کے بارے میں تشکیل دیں تاکہ وہ یہ جان سکیں کہ ایچ آئی وی کے بارے میں لوگوں کو کیسے آگاہ کیا جاتا ہے اور کس طرح زندگی کی اہم مہارتوں کا ایک دوسرے سے تبادلہ کیا جا تا ہے۔

نوجوان بالغوں کو ایچ آئی وی کے خطرات کے بارے میں جاننے کی ضرورت ہے۔ انہیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ کس طرح قربت کے غیر محفوظ تعلقات کے ذریعے ایک متاثرہ فرد سے یا آلودہ سوئیوں یا سرنجوں کے ذریعے انجکشن لگانے سے منتقل ہوتا ہے۔ انہیں محفوظ عادات اور زندگی کے طرز عمل کی ترجیحات کے نتائج کے بارے میں معلوم ہونا چاہیئے۔ انہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہئیے کہ ایچ آئی وی کس طرح منتقل نہیں ہوتا تاکہ وہ اس وہم کا انکار کر سکیں اور وبائی مرض لاحق ہونے کے بے جا خوف کی بنیاد پر ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنے والے لوگوں کے خلاف تفریق کا خاتمہ کرسکیں۔

قربت کے غیر محفوظ تعلقات سے ایچ آئی وی کے خطرات لاحق ہونے کے بارے میں جاننا اور انہیں کم کرنابہت اہم ہے:

اگر لوگ قربت کے تعلقات قائم نہ کریں تو ایچ آئی وی کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اگر وہ قربت کے تعلقات قائم کریں تو مردانہ اور زنانہ کنڈومز کا درست اور مسلسل استعمال بہت اہم ہے۔ خطرے کو کم کرنے کے لئے، لوگ یہ کر سکتے ہیںچاہئیںکہ:

• جن لوگوں سے قربت کے تعلقات ہیں ان کی تعداد کم کریں۔ • کسی ایک ساتھی کے ساتھ باہمی وفاداری کا رشتہ قائم رکھیں جو انفکیشن سے متاثر نہ ہو۔ • قربت کے محفوظ تعلقات قائم کریں - بغیر دخول کے تعلقات (جس میں آلہ تناسل کو اندام نہانی، مقعد یا منہ میں داخل نہیں کیا جاتا) یا درست طور پر (دی ہوئی ہدایات کے مطابق) اور مسلسل (دخول والے ہر عمل کے دوران) کنڈوم استعمال کرتے ہوئے دخول والے قربت کے تعلقات قائم کریں۔

محفوظ عادات کے ساتھ مل کر، مردو ں کے ختنے ایچ آئی وی کی عورتوں سے مردوں میں منتقلی کے امکانات کو کم کر دیتے ہیں-

لوگ جتنے زیادہ افراد کے ساتھ قربت کے تعلقات قائم کریں گے، اتنا ہی زیادہ ان میں سے کسی ایک کو ایچ آئی وی سے متاثر ہونے اور اسے دوسروں تک منتقل کرنے کا خطرہ ہو گا (اگر وہ مردانہ یا زنانہ کنڈومز مسلسل اور درست طریقے سے استعمال نہیں کریں گے)۔

تاہم، کسی کو بھی ایچ آئی وی لاحق ہو سکتا ہے - یہ صرف ان لوگوں تک محدود نہیں ہوتا جو بہت سے لوگوں کے ساتھ قربت کے تعلقات قائم کرتے ہیں۔ وہ لوگ جن میں انفیکشن کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں، انہیں بھی وائرس ہو سکتا ہے۔ ٹیسٹنگ ہی کے ذریعے ایسی کوئی یقین دہانی کروا ئی جا سکتی ہے۔

اندام نہانی یا مقعدمیں دخول کے دوران تحفظ یقینی بنانے کے لئے ایک اچھی طرح چکنا کنڈوم استعمال کرنا ضروری ہے۔

• مردانہ کنڈومز جو چکنائی (پھسلنے والی مائع یا جیل) کے ساتھ آتے ہیں، ان کے استعمال کے دوران پھٹنے کے بہت کم امکانات ہوتے ہیں۔ اگر کنڈوم اچھی طرح چکنا نہیں ہے، تو پانی پر مبنی کوئی چکنی چیز، جیسا کہ سلیوکون یا گلیسرین لگا لینی چاہیئے۔ اگر اس قسم کی چکنائی دستیاب نہ ہو، تو سلیوا استعمال کیا جا سکتا ہے (حالانکہ یہ دیگر انفیکشنز، جیسا کہ خارش، پیدا کر سکتا ہے)۔ تیل یا پیٹرولیم مصنوعات سے تیار کردہ کوئی بھی چکنائی مردانہ کنڈوم کے ساتھ کبھی استعمال نہیں کرنی چاہئیے کیوں کہ وہ کنڈوم کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ تیل یا پیٹرولیم مصنوعات میں کھانے کا تیل، چربی، معدنی تیل، بچوں کا تیل، پیٹرولیم جیلی اور دیگر لوشن شامل ہوتے ہیں۔

• زنانہ کنڈوم، مردانہ کنڈوم کا ایک محفوظ نعم البدل ہے۔ عام استعمال میں آنے والا زنانہ کنڈوم، نرم اورڈھیلی فٹنگ کا خول ہوتا ہے جسے اندام نہانی میں لگا لیا جاتا ہے۔ اس کے ہر سرے پر ایک نرم سا چھلہ ہوتا ہے۔ بند کئے ہوئے سرے پر موجود چھلہ کنڈوم کو اندام نہانی کے اندر رکھنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے؛ یہ قربت کے تعلقات کے دوران کنڈوم کو اپنی جگہ پر قائم رکھتا ہے۔ دوسرا چھلہ اندام نہانی کے باہر رہتا ہے اور اس کا کچھ حصہ اندام نہانی کے ہونٹوں کو ڈھانپے رکھتا ہے۔ قربت کے تعلقات کے آغاز سے پہلے، عورت زنانہ کنڈوم کو اپنی انگلی کی مدد سے اندام نہانی میں رکھ لیتی ہے۔ لاٹیکس کے بنے ہوئے ان زنانہ کنڈومز کے لئے صرف پانی پر مبنی چکنائی استعمال کی جانی چاہیئے، جب کہ پولی یوریتھین یالاٹیکس کے مصنوعی زنانہ کنڈومز کے لئے پانی پر مبنی یا تیل پر مبنی چکنائی استعمال کی جا سکتی ہے۔

منہ کے ذریعے جنسی خواہش پوری کرنے سے ایچ آئی وی پھیل سکتا ہے، حالانکہ دستیاب معلومات یہ تجویز کرتی ہیں کہ اندام نہانی اور مقعد کے استعمال کی نسبت اس عمل میں خطرے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ تاہم، منہ کے ذریعے جنسی خواہش پوری کرنے سے جنسی بیماریوں کی منتقلی کا خطرہ در پیش ہوتا ہے جو ایچ آئی وی کی منتقلی کے خطرے میں اضافہ کر سکتا ہے۔ منہ میں عضو تناسل ڈالنے کے لئے مردانہ کنڈوم استعمال کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

کیوں کہ زیادہ تر جنسی بیماریاں اعضائے تناسل کے آپس میں ملاپ سے پھیلتی ہیں، اس لئے اعضائے تناسل کے ملاپ سے پہلے کنڈوم استعمال کرنا چاہیئے۔

شراب نوشی یا نشہ آور اشیاء کے استعمال سے فیصلہ کرنے کی قوت میں خلل پیدا ہوتا ہے۔ یہاں تک ایچ آئی وی کے خطرات اور قربت کے محفوظ تعلقات کی اہمیت سے واقف لوگ بھی شراب نوشی یا نشہ آور اشیاء کے استعمال کے بعد احتیاط کرنا بھول سکتے ہیں۔

جنسی بیماریوں کا شکار ہونے والے افراد کو ایچ آئی وی کے حصول اور ایچ آئی وی کی دوسروں تک منتقلی کا زیادہ خطرہ ہوتاہے:

ایچ آئی وی سمیت، جنسی بیماریاں ایسے انفیکشنز ہیں جو جنسی روابط کے ذریعے پھیلتے ہیں۔ یہ انفیکشنز جسم کی رطوبتوں (منی، اعضائے تناسل سے بہنے والی رطوبت یا خون)کے تبادلے کے ذریعے یا اعضائے تناسل کی جِلد سے رابطہ ہونے پر پھیل سکتے ہیں۔ اگر اعضائے تناسل کی جِلد زخمی ہو، جیسا کہ رگڑیں، خراشیں یا کٹاؤ، تو جنسی بیماریاں زیادہ آسانی سے پھیلتی ہیں۔ جنسی بیماریاں اکثر رگڑیں پیدا کرتی ہیں جو انفیکشن کو پھیلانے میں مدد گار ثابت ہوتی ہیں۔جنسی بیماریاں اکثر شدید جسمانی تکلیف اور نقصان کا باعث بنتی ہیں۔

کوئی بھی جنسی بیماری، جیسا کہ سوزاک یا آتشک،ایچ آئی وی انفیکشن کے یا ایچ آئی وی کی منتقلی کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہے۔ جنسی بیماری کے شکار کسی بھی فرد کو، ایچ آئی وی سے متاثرہ کسی بھی فرد کے ساتھ قربت کے غیر محفوظ تعلقات قائم کرنے پر، ایچ آئی وی انفیکشن حاصل کرنے کا شدید خطرہ ہوتا ہے۔

• وہ لوگ جنہیں کسی جنسی بیماری کے لاحق ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے، انہیں چاہئیے کہ وہ فوری طور پر کسی تربیت یافتہ کارکن صحت یا ڈاکٹر سے اپنی تشخیص کروائیں اور علاج کرائیں۔ انہیں چاہئیے کہ قربت کے تعلقات سے پرہیز کریں یا قربت کے محفوظ تعلقات (بغیر دخول یا مردانہ یا زنانہ کنڈومز استعمال کرتے ہوئے قربت کے تعلقات) کی عادت ڈالیں۔ • قربت کے تعلقات - اندام نہانی، مقعد یا منہ کے ذریعے - کے آغاز سے پہلے مردانہ اور زنانہ کنڈومز کا درست اور مسلسل استعمال ایچ آئی وی سمیت بہت سی جنسی بیماریوں کے پھیلنے کے خطرے کو کافی حد تک ختم کر سکتا ہے۔ • جنسی بیماریوں کے حامل لوگوں کو چاہئیے کہ اپنے ساتھی (ساتھیوں ) کو اس بات سے آگاہ کر دیں۔ اگر دونوں ساتھیوں کا جنسی بیماریوں کے لئے علاج نہیں ہو رہا، تو وہ دونوں ایک دوسرے کو متاثر کر سکتے ہیں۔ بہت سی جنسی بیماریاں قابل علاج ہیں۔ کچھ جنسی بیماریوں کی علامات: • مرد کو پیشاب کے دوران درد ہوتا ہے؛ عضوتناسل میں سے مواد بہتا رہتا ہے(جریان)؛ یا عضو تناسل کے اوپریا منہ کے اندر سوجن، چھالے، پھوڑے یا سرخ دانے نکل آتے ہیں۔ • عورت کی اندام نہانی میں سے عجیب و غریب رنگ کا یابدبو دار مواد بہتا رہتا ہے(لیکوریا)، اندام نہانی کے آس پاس کی جگہ میں درد یا خارش ہوتی ہے، اور قربت کے لمحات کے دوران یا ان کے بعد اندام نہانی میں دردہوتا ہے یا خون بہتا ہے۔ زیادہ شدید قسم کے انفیکشن میں بخار، پیٹ میں درد اور بانجھ پن پیدا ہوسکتا ہے۔ • بہت سی جنسی بیماریاں عورتوں میں اور کچھ بیماریاں مردوں میں کوئی قابل ذکر علامات پیدا نہیں کرتیں۔

اعضائے تناسل کے آس پاس ہونے والا ہر مسئلہ جنسی بیماری نہیں ہوتا۔ کچھ انفیکشنز، جیسا کہ کینڈیڈیا سیس (پھپوندی والا انفیکشن) اور پیشاب کی نالی میں انفیکشنز، قربت کے تعلقات کی وجہ سے لاحق نہیں ہوتے۔ لیکن یہ اعضائے تناسل کے آس پاس کے حصوں میں بڑی بے چینی پیدا کر سکتے ہیں۔

ایچ آئی وی غیر اسٹریلائزڈ، آلودہ سوئیوں یا سرنجوں سے، جو زیادہ تر نشہ آور ٹیکے لگانے میں استعمال ہوتی ہیں، یا دیگر آلات کے ذریعے پھیل سکتا ہے:

ایک غیر اسٹریلائزڈسوئی یا سرنج ایچ آئی وی یا دیگر انفیکشنز پیدا کر سکتی ہے، جیسا کہ اگر وہ کسی متاثرہ خون سے آلودہ ہو تو ایک فرد سے دوسرے فرد کو ہیپاٹائٹس منتقل کر سکتی ہے۔ جب تک اسٹریلائزنہ کر لیا جائے، اس وقت تک اسے کسی فرد کی جِلد کو چیرنے کے لئے استعمال نہیں کرنا چاہیئے۔

وہ لوگ جو خود اپنے آپ کو نشہ آور ٹیکے لگاتے ہیں یا نشہ آور ٹیکے استعمال کرنے والوں کے ساتھ قربت کے غیر محفوظ تعلقات قائم کرتے ہیں، انہیں ایچ آئی وی سے متاثر ہونے کا بہت خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ نشہ آور ٹیکے استعمال کرنے والوں کو ہمیشہ صاف سوئی اور سرنج استعمال کرنی چاہیئے۔ انہیں کسی دوسرے فرد کی استعمال کردہ سوئی یا سرنج ہرگز استعمال نہیں کرنی چاہیئے۔

ٹیکے صرف تربیت یافتہ کارکن صحت سے آٹو ڈس ایبل سرنج (صرف ایک مرتبہ استعمال ہونے والی سرنج) سے لگوانے چاہیئں۔

غیر اسٹریلائزڈآلات، جیسا کہ ریزر یا چھری سے لگایا جانے والا کسی بھی قسم کاکٹ ایچ آئی وی منتقل کر سکتا ہے۔ کاٹنے والے آلے کوخاندان کے ارکان سمیت ہر فرد کے لئے مکمل طور پر اسٹریلائزکرنا چاہیئے، یا بلیچ اور / یا کھولتے ہوئے پانی سے رگڑ کا صاف کرنا چاہیئے۔

دانتوں کے علاج، نقش و نگار کھدوانے، چہرے پر ڈرائنگ، کانوں یا جسم کے کسی اور حصے کو چھیدنے، اور آکو پنکچر کے لئے استعمال ہونے والے آلات اس وقت تک محفوظ نہیں ہوتے جب تک کہ انہیں ہر فرد کے لئے اسٹریلائزنہ کر لیا جائے۔ ایسا کرنے والے فرد کو ایسا احتیاطی طریقہ کار اختیار کرنا چاہئیے جس میں اس کام کے دوران کام کروانے والے کا خون اس کے اوزاروں کو نہ لگ پائے۔

The Internet of Good Things