زبان: اردو

ہر وہ فرد جو یہ جاننا چاہتا ہے کہ ایچ آئی وی کو کیسے روکا جا سکتا ہے یا یہ سوچتا / سوچتی ہے کہ وہ ایچ آئی وی سے متاثرہ ہے، تو اسے ایچ آئی وی کی روک تھام اور / یا یہ مشورہ کرنے کے لئے ایچ آئی وی ک

ہر وہ فرد جو یہ جاننا چاہتا ہے کہ ایچ آئی وی کو کیسے روکا جا سکتا ہے یا یہ سوچتا / سوچتی ہے کہ وہ ایچ آئی وی سے متاثرہ ہے، تو اسے ایچ آئی وی کی روک تھام اور / یا یہ مشورہ کرنے کے لئے ایچ آئی وی کی ٹیسٹنگ، مشاورت، دیکھ بھال اور اس کے خلاف مدد کہاں سے ملتی ہے،فوری طور پر حفظان صحت کی سہولت فراہم کرنے والوں یا ایڈز کے کسی مرکز سے رابطہ کرنا چاہیئے۔

ایچ آئی وی کے بارے میں اور ان سہولتوں اور تعلیم کے بارے میں معلومات کہ انفیکشن کے بڑھتے ہوئے خطرات کو کس طرح روکنا یا کم کرنا ہے، ہر ملک میں کافی مقدارمیں دستیاب ہیں۔ یہ معلومات مراکز صحت، حفظان صحت کے جگہ جگہ قائم مراکز اور موبائل یونٹس، ٹیسٹنگ اور مشاورت کے مراکز، یوتھ مراکز، اور بہت سے اسکولوں میں دستیاب ہیں۔ یہ معلومات انٹرنیٹ پر اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔

ایچ آئی وی کی ٹیسٹنگ اور مشاورت سے انفیکشن کی جلد تشخیص میں مدد مل سکتی ہے۔ ایسا کرنے سے انفیکشن سے متاثرہ افراد اس قابل ہو سکیں گے،کہ:

• اپنی ضرورت کے مطابق امدادی سہولتیں حاصل کر سکیں۔ • ان انفیکشنز پر قابو پا سکیں جو انہیں ممکنہ طور پر ہو سکتے ہیں۔ • ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنا سیکھ سکیں۔ • دوسرں کو انفیکشن سے کیسے محفوظ رکھنا ہے۔

کوئی بھی فرد جسے یہ گمان ہو کہ شاید وہ ایچ آئی وی کا / کی شکار ہے، اسے چاہئیے کہ وہ رازدارانہ ٹیسٹنگ اور مشاورت حاصل کرنے کے لئے حفظان صحت کی سہولیتں فراہم کرنے والوں سے رابطہ کرے۔ کوئی بھی ایسا فرد جو ایسی جگہ رہتا ہے جہاں ایچ آئی وی پھیلا ہوا ہے اور وہ قربت کے غیر محفوظ تعلقات رکھتا / رکھتی ہے، تو ٹیسٹنگ اور مشاورت کے لئے اس کی حوصلہ افزائی کریں۔

رضاکارانہ ایچ آئی وی ٹیسٹنگ اور مشاورت لوگوں کو اپنی صحت اور قربت کے تعلقات کے رویئے کے بارے میں پہلے سے معلوم ترجیحات کو اپنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ یہ عمل جوڑوں کو یہ فیصلہ کرنے میں مدد دے سکتا ہے کہ آیا انہیں بچوں کی خواہش کرنی چاہئیے یا نہیں۔ اگر ایک ساتھی کو ایچ آئی وی کا اندیشہ ہے تو شریک حیات بھی بچے کی خواہش کی صورت میں متاثرہوسکتی / سکتا ہے۔ اگر کسی جوڑے کے ہاں بچہ پیدا ہونے والا ہو، تو ٹیسٹنگ اور مشاورت انہیں اپنے ہونے والے بچے کی صحت کے سلسلے میں فیصلے کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ٹیسٹنگ اور مشاورت سے ا ن لوگوں کو جو ابھی متاثر نہیں ہوئے،قربت کے تعلقات کی محفوظ ترجیحات سمیت خطرے سے محفوظ رہنے کے بارے میں آگہی کے ذریعے انفیکشن سے محفوظ رہنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

اگر ایچ آئی وی ٹیسٹ کا نتیجہ منفی ہو، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جس فرد کا ٹیسٹ لیا گیا ہے وہ متاثرہ نہیں ہے یا ابھی وائرس کا پتہ چلانا قبل از وقت ہے۔ بالغوں میں، ایچ آئی وی خون کے ٹیسٹ میں وائرس پیدا کرنے والے کسی عمل کے چھ ہفتے تک ممکن ہے کہ انفیکشن کا پتہ نہ چل پائے۔ ٹیسٹ پر انحصار کرتے ہوئے، شیر خوار بچوں میں ممکن ہے کہ پیدائش کے بعد 18ماہ تک انفیکشن کا پتہ نہ چل سکے۔ تاہم، شیرخوار بچوں میں جلد تشخیص کا پتہ چھ ہفتے جیسے کم عرصے میں لگایا جا سکتا ہے۔

خاندانوں اور کمیونٹیوں کو رازدارانہ ایچ آئی وی ٹیسٹنگ، مشاورت اور معلومات کے صیغہ راز میں رکھنے پر اصرار کرنا چاہیئے۔ رازداری کا عمل بچوں، نوجوان بالغوں اوربالغوں کو بدنامی، تفریق، دور رکھے جانے اور تنہائی بھگتنے سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

مشاورت، عورتوں اورنوجوان بالغ لڑکیوں کو با اختیار بنانے، قربت کے تعلقات میں احتیاط برتنے اور کنڈومز استعمال کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ مشاورت کے عمل سے جنسی وجوہات کی بنا پر پیداہونے والے انفیکشنز کا پتہ چلانے اور ان کا علاج کرنے میں مدد ملتی ہے - ایسے تمام علاج ایچ آئی وی انفیکشن کے امکانات کو کم کرسکتے ہیں۔اگر کسی عورت یا نوجوان بالغ لڑکی کے لئے ایچ آئی وی کی تشخیص ہو جائے، اس عورت کے ہا ں بچے موجود ہوں یا وہ حاملہ ہو، تو اسے تحفظ فراہم کرنے، دیکھ بھال کرنے اور اس کے بچوں کی مدد کرنے کے لئے تعاون کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ کمیوٹنی کے امدادی گروپس اور این جی اوز اکثر اس قسم کی مدد فراہم کرتے ہیں۔

ٹیسٹنگ کی سہولت تک بڑھتی ہوئی رسائی اور اس کے بعد علاج، دیکھ بھال اور مدد سے بدنامی کم ہونے میں مدد مل سکتی ہے اور اس بات کا مظاہرہ عمل میں آ سکتا ہے کہ ایچ آئی وی ’سزائے موت‘ نہیں ہے اور یہ کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ بہت سے لوگ قدرے صحت مند،ہنسی خوشی اور کارآمد زندگی گزار سکتے ہیں۔

The Internet of Good Things