زبان: اردو

بچوں سمیت خاندان کے تمام ارکان کے فضلے کو ٹھکانے لگانے کے بعد، کھانے کو ہاتھ لگانے یا کھانا تیار کرنے سے پہلے، اور بچوں کو فیڈ کرانے سے پہلے اپنے ہاتھ صابن اور پانی سے اچھی طرح دھونے کی ضرورت ہے۔ جہاں

بچوں سمیت خاندان کے تمام ارکان کے فضلے کو ٹھکانے لگانے کے بعد، کھانے کو ہاتھ لگانے یا کھانا تیار کرنے سے پہلے، اور بچوں کو فیڈ کرانے سے پہلے اپنے ہاتھ صابن اور پانی سے اچھی طرح دھونے کی ضرورت ہے۔ جہاں صابن دستیاب نہ ہو تو کوئی متبادل، جیسا کہ راکھ اور پانی کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔

صابن اور پانی کے ساتھ ہاتھ دھونے سے جراثیم ختم ہو جاتے ہیں۔ پانی میں انگلیوں کاآپس میں رگڑنا کافی نہیں ہوتا - دونوں ہاتھوں کو ملا کر صابن اور پانی سے رگڑنے کی ضرورت ہوتی ہے، اور پھر انہیں پانی میں دھو لیا جاتا ہے۔ ایسا کرنے سے جراثیموں اور دھول کو کھانے کی چیزوں میں شامل ہونے یا منہ میں جانے سے روکنے میں مدد ملتی ہے۔ ہاتھوں کو دھونے سے کیڑوں سے پیدا ہونے والے انفیکشن کو روکنے میں بھی مددملتی ہے۔ صابن اور پانی کو لیٹرین یا ٹائیلٹ میں کسی موزوں اور قابل رسائی جگہ پر رکھنا چاہئیے۔ جہاں صابن دستیاب نہ ہو، وہاں راکھ اور پانی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

• رفع حاجت سے فارغ ہونے کے بعد اوراس شیر خوار یا چھوٹے بچے کا پاخانہ صاف کرنے کے بعد جو ابھی پاخانہ کرکے فارغ ہوا ہے، اپنے ہاتھ صابن سے دھونا خاص طور پر بہت اہم ہے۔ جانوروں اورکھانے پینے کی خام چیزوں کو چھونے کے بعد بھی ہاتھوں کو دھونا بہت اہم ہے۔ • کھانا تیار کرنے، پیش کرنے یا کھانے سے پہلے اور بچوں کو فیڈ کرانے سے پہلے ہمیشہ ہاتھوں کو اچھی طرح دھو لینا چاہئیے۔ بچوں کو یہ سکھانا چاہئیے کہ اپنے آپ کو بیماری سے محفوظ رکھنے کے لئے پاخانہ کرنے کے بعد اور کھانا کھانے سے پہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو صابن سے اچھی طرح مل کر کیسے دھونا ہوتاہے۔

بچے اکثر اپنے ہاتھ اپنے منہ میں لے جاتے ہیں ، لہٰذا ان کے ہاتھ اکثر دھلوانا اہم ہے، خاص طور پر جب جو مٹی میں یا جانوروں کے ساتھ کھیل رہے ہوں۔ جِلد کے انفیکشنز سے بچنے کے لئے بچوں کے جسم کو باقاعدگی سے صاف کرنا بھی اہم ہے۔

بچے کیڑوں سے آسانی سے متاثر ہو جاتے ہیں ، جس سے ان کی جسم کی غذائیت میں کمی آجاتی ہے۔ کیڑے اور ان کے انڈے انسانی اور حیوانی فضلے اور پیشاب میں ، پانی کی سطح پر اور نمی میں اور خراب پکے ہوئے گوشت میں پائے جا سکتے ہیں۔

• بچوں کو چاہئیے کہ وہ لیٹرین، ٹائیلٹ یا اس جگہ پر نہ کھیلیں جہاں پاخانہ کیا جاتا ہے۔ جراثیموں کو پاؤں کی جِلدکے ذریعے جسم میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے لیٹرین کے نزدیک جوتے یا چپل پہن کر جانا چاہئیے۔ • ایسے علاقوں میں رہنے والے بچوں کو جہاں کیڑے عام پائے جاتے ہیں ،انہیں ہر سال دو سے تین مرتبہ کیڑوں کے خلاف تجویز کردہ دوائیں دی جانی چاہئیں۔

مرغیوں کو یا مرغیوں کی اشیاء کوہاتھ لگانے، انڈوں یا کچے گوشت کو چھونے، اور اس جگہ کو صاف کرنے کے بعد جہاں مرغیوں کو رکھاگیا ہے، صابن اور پانی سے ہاتھ دھو لینے سے جراثیموں اور برڈ فلو پھیلنے سے روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔

The Internet of Good Things