زبان: اردو

حفاظتی ٹیکے بہت سے خطرناک امراض سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ ایک ایسا بچہ جسے حفاظتی ٹیکوں کا کورس مکمل نہ کرایا گیا ہو، اس کے بیمار پڑنے، مستقل طور پر معذور ہوجانے یا غذائیت کی کمی کا شکار ہونے ،اور ممکنہ

حفاظتی ٹیکے بہت سے خطرناک امراض سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ ایک ایسا بچہ جسے حفاظتی ٹیکوں کا کورس مکمل نہ کرایا گیا ہو، اس کے بیمار پڑنے، مستقل طور پر معذور ہوجانے یا غذائیت کی کمی کا شکار ہونے ،اور ممکنہ طور پر مرجانے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔

حفاظتی ٹیکے بچوں کو بچپن کے خطرناک ترین امراض کے خلاف تحفظ فراہم کرتے ہیں ۔ معذور بچوں سمیت، تمام بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوانے کی ضرورت ہے۔ بچے کو یہ تحفظ ویکسینز کے ذریعے فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ ویکسینز انجکشن کے ذریعے دی جاتی ہیں یا ان کے قطرے منہ میں ٹپکائے جاتے ہیں ۔ یہ ویکسینز امراض کے خلاف بچوں کے دفاع کی تعمیر کا کام کرتی ہیں ۔ حفاظتی ٹیکے صرف اس صورت میں کام کرتے ہیں جب انہیں مرض لاحق ہونے سے پہلے لگوا لیا جائے۔

جس بچے کو حفاظتی ٹیکے نہیں لگوائے گئے، اسے خسرہ، کالی کھانسی، اور بہت سے دیگر ایسے امراض لاحق ہونے کا امکان ہوتاہے جن سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ جو بچے ان امراض کے بعد زندہ بچ جاتے ہیں وہ بہت کمزور ہو جاتے ہیں اور ان کی افزائش اچھی نہیں ہو پاتی۔ وہ مستقل طور پر معذور بھی ہو سکتے ہیں ۔ وہ بعد ازاں غذائیت کی کمی اور دیگر امراض کی وجہ سے موت کا شکار بھی ہو سکتے ہیں ۔

تمام بچوں کو بی سی جی (Bacille Calmette-Guérin) ویکسین کے ذریعے تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے، جو ٹی بی کی کچھ اقسام اور کوڑھ کے خلاف کچھ نہ کچھ تحفظ فراہم کرتی ہے۔

کچھ بچوں کو ڈی ٹی پی ویکسین (جسے ڈی پی ٹی ویکسین کے نام سے بھی جانا جاتا ہے) کے ذریعے خناق، تشنج اور کالی کھانسی کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ خناق، سانس کی نالی کے اوپری حصے میں انفیکشن پیدا کرتا ہے، جس سے شدید نوعیت کے کیسوں میں سانس میں تکلیف پیدا ہو سکتی ہے جو موت کا سبب بن سکتی ہے۔ تشنج جسم کو اکٹرا دیتا ہے اور تکلیف دہ اینٹھن کی وجہ بن جاتا ہے جو مہلک بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ کالی کھانسی سانس کی نالی پر اثر انداز ہوتی ہے اور اس طرح پیدا ہونے والی یہ کھانسی چار سے آٹھ ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ شیرخوار بچوں کے لئے یہ مرض بہت خطرناک ہے۔

تمام حاملہ عورتوں اور شیر خواربچوں کو تشنج کے خلاف حفاظتی ٹیکے لگوانے کی ضرورت ہے۔

تمام بچوں کو خسرہ کے خلاف تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے، جو غذائیت کی کمی، ناکافی ذہنی نشوونماء، سمعی اور بصری خرابیوں کی اہم وجہ بن سکتی ہے۔ بچے کو خسرہ ہوجانے کی علامات میں بخار اور جسم پر سرخ دانے،اور اس کے ساتھ ساتھ کھانسی، ناک کا بہنا یا آنکھیں سرخ ہو جاناشامل ہیں ۔ بچہ خسرہ کی وجہ سے موت کا شکار بھی ہو سکتاہے۔

تمام بچوں کو پولیو کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہاتھ پاؤں میں بے ڈھنگا پن یا حرکت کرنے میں مشکل پولیو کی علامات ہیں۔ ہر 200متاثرہ بچوں میں سے ایک ساری زندگی کے لئے معذور ہو جاتاہے۔

ان ممالک میں جہاں ہیپاٹائٹس ’بی‘ ایک مسئلہ ہے، اگر ہیپاٹائٹس ’بی‘ ویکسین سے تحفظکے ٹیکے نہ لگائے جائیں تو ہر 100 بچوں میں سے 10بچے ساری زندگی کے لئے متاثرہوجاتے ہیں ۔ ہیپاٹائٹس ’بی‘ سے متاثرہ ایک چوتھائی بچوں کو بڑے ہوجانے پر سرطان (کینسر) جیسے جگر کے امراض کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

بہت سے ممالک میں نموکوکوکس بیکٹیریا کی وجہ سے ہونے والا نمونیہ یا ہیموفیلس انفلوانزا ٹائپ ’بی‘ (Hib)بیکٹیریاعام ہوتا ہے اور بہت سے چھوٹے بچوں کی موت کی وجہ بنتا ہے۔ ان دونوں میں سے کوئی بھی بیکٹیریا بچپن میں گردن توڑ بخار اور دیگر شدید انفیکشنز بھی پیدا کر سکتا ہے۔ یہ دونوں بیکٹیریا بچوں ، خاص طور پر 5سال سے کم عمر کے بچوں کے لئے خطرناک ترین ہوتے ہیں ۔ ہیموفیلس انفلوانزا ٹائپ ’بی‘ ویکسین (Hibویکسین) اور نموکوکل (کنجوگیٹ) ویکسین (PCV)کے حفاظتی ٹیکوں کے ذریعے ان اموات کوروکا جا سکتا ہے۔

پینٹا والنٹ ویکسین (پانچ بیماریوں کا توڑ) کو ڈی ٹی پی (ڈی پی ٹی)، ہیپاٹائٹس ’بی‘ اور Hibویکسینز کے ساتھ ملا کر، اس کا حفاظتی ٹیکوں کے قومی پروگراموں میں استعمال بڑھ گیا ہے۔

روٹا وائرس کے وجہ سے ہونے والی دستوں کی بیماری عام ہے اور یہ شدید بھی ہو سکتی ہے۔یہ 5سال سے کم عمر کے تقریباً ہر بچے کو متاثر کرتی ہے۔ روٹا وائرس دستوں کی بیماری ان ترقی پذیر ممالک میں زیادہ عام ہے جہاں حفظان صحت کی سہولتوں تک رسائی بہت مشکل ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے 5سال سے کم عمر، خصوصاً 2سال سے کم عمر کے بچوں میں بہت سے اموات ہوجاتی ہیں ۔ روٹا وائرس کے خلاف حفاظتی ٹیکے اس وائرس سے پیدا ہونے والی دستوں کی بیماری کو روک دیتے ہیں ۔ تاہم، دیگر بیکٹیریا یا وائرس کی وجہ سے ہونے والی دستوں کی بیماری تب بھی ان بچوں کو متاثر کر سکتی ہے جنہیں روٹا وائرس ویکسین دی جا رہی ہو۔

کچھ ممالک میں، زرد بخار بہت سے چھوٹے بچوں اور بالغوں کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ ویکسین کے استعمال سے اس مرض کو روکا جا سکتا ہے۔

جاپانی اینصی فالیٹس(encephallitis) وائرس ، زیادہ تر ایشیائی ممالک کے دیہی علاقوں میں ،مچھروں سے پھیلتا ہے۔ یہ شدید بیماری کی وجہ بنتا ہے ، اور متاثرہ افراد میں سے ایک تہائی کو مار دیتا ہے۔ زندہ بچ جانے والے زیادہ تر لوگوں کا ذہن تباہ ہو جاتا ہے۔ اس ویکسین کے استعمال کے سلسلے میں قومی رہنما اصولوں کے بارے میں مشورے اور معلومات کے لئے کسی تربیت یافتہ کارکن صحت سے رابطہ کرناچاہیئے۔

ماں کا پہلا گاڑھا پیلے رنگ کا دودھ جو ماں پیدائش کے بعد ابتدائی چند دنوں میں پیدا کرتی ہے، دستوں کی بیماری، نمونیہ، اور دیگر امراض سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ماں کے پہلے دودھ کو کبھی کبھار نوزائیدہ بچے کی ’پہلی ویکسین‘ کہا جاتا ہے، جو بچے میں بیماری کے خلاف مدافعت پیداکرتی ہے۔

بہت سے ممالک میں جہاں وٹامن ’اے‘ کی کمی عام ہے، وہاں 6ماہ سے 5سال تک کی عمر کے بچوں کو ہر چار سے چھ ماہ بعد وٹامن ’اے‘ کیپسول (یا شربت) کی بڑی خوراک دی جاتی ہے۔وٹامن ’اے‘ کو حفاظتی ٹیکوں کی روٹین مہم (جیسا کہ 9ماہ مکمل ہونے پر خسرے کی ویکسین) اور اس کے ساتھ ساتھ حفاظتی ٹیکوں کی خصوصی مہموں کے دوران تقسیم کیا جاتا ہے۔وٹامن ’اے‘ خسرہ کے علاج کا بھی ایک اہم حصہ ہے۔

The Internet of Good Things