زبان: اردو

کسی ایسے بچے کو حفاظتی ٹیکے لگوانا ایک محفوظ عمل ہے جو معمولی طور پر بیمار ہے، یا معذوری یا خوراک کی کمی کا شکار ہے۔

کسی ایسے بچے کو حفاظتی ٹیکے لگوانا ایک محفوظ عمل ہے جو معمولی طور پر بیمار ہے، یا معذوری یا خوراک کی کمی کا شکار ہے۔

کچھ والدین اس لئے بچے کو حفاظتی ٹیکے لگوانے نہیں لے جاتے کیوں کہ بچے کو بخار، کھانسی، ٹھنڈ، دستوں کی بیماری یاکسی اور مرض کی شکایت ہے۔ تاہم، اس بچے کو حفاظتی ٹیکے لگوانا جسے کوئی معمولی بیماری لاحق ہو،ایک محفوظ عمل ہے ۔

کسی ایسے بچے کو حفاظتی ٹیکے لگوانا بھی محفوظ عمل ہے جو کسی معذوری یا غذائیت کی کمی کا شکار ہو۔ اگر بچہ ایچ آئی وی مثبت ہے یا اس کے ایچ آئی وی مثبت ہونے کا اندیشہ ہے، تو پھر کسی تربیت یافتہ کارکن صحت یا ڈاکٹر سے یہ مشورہ کرنا چاہیئے کہ اس بچے کو کون سی ویکسینز دی جانی چاہیئں ۔

ممکن ہے ٹیکے کے بعد بچہ روئے یا اسے بخار ہو جائے، جسم پر چھوٹے سرخ دانے ابھر آئیں یا تھوڑی بہت سوجن پیدا ہو جائے۔ یہ معمول کی بات ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ ویکسین اپناکام دکھا رہی ہے۔ 6 ماہ سے کم عمر کے بچوں کو باربار ماں کا دودھ پلانا چاہیئے؛ بڑ ے بچوں کو کھانے پینے کی بہت سی چیزیں دینی چاہیئں ۔ اگربچے کو تیز بخار ہوجائے (38 ڈگری C سے زائد) تو بچے کوکسی تربیت یافتہ کارکن صحت کے پاس یا مرکز صحت یا اسپتال لے جانا چاہیئے۔

غذائیت کی کمی کا شکار بچوں کے لئے خسرہ انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے، لہٰذا اگر غذائیت کی کمی شدید ہو تو انہیں خسرے سے بچاؤکے حفاظتی ٹیکے لگوانے چاہئیں۔

The Internet of Good Things