زبان: اردو

دواؤں، زہریلی اشیاء، کیڑے مار دواؤں، بلییچ، تیزاب اور مائع کھاد اور مائع ایندھن، جیسا کہ پیرافین (مٹی کاتیل) کوبچوں کی نظروں اور پہنچ سے دور کسی محفوظ جگہ پر احتیاط سے رکھنا ،چاہئیے۔ خطرناک محلول ک

دواؤں، زہریلی اشیاء، کیڑے مار دواؤں، بلییچ، تیزاب اور مائع کھاد اور مائع ایندھن، جیسا کہ پیرافین (مٹی کاتیل) کوبچوں کی نظروں اور پہنچ سے دور کسی محفوظ جگہ پر احتیاط سے رکھنا ،چاہئیے۔ خطرناک محلول کو کسی ڈبے میں رکھ کر اس پر اس محلول کا نام لکھ دینا ،چاہئیے اور اسے کبھی بھی پانی پینے کی بوتلوں میں نہیں رکھنا،چاہئیے۔ جہاں دستیاب ہوں، زہریلی اشیاء کے ڈبوں پر ایسے ڈھکن استعمال کرنے چاہئیں جو بچوں سے نہ کھل سکیں۔

کسی زہریلی چیز کا استعمال چھوٹے بچوں کے لئے شدید خطرے کا باعث ہو سکتا ہے۔ بلیچ، کیڑے مار دوا اور چوہے مار گولیاں، پیرافین (کیروسین) اور گھر میں صفائی ستھرائی کے لئے استعمال ہونے والی دیگر مائع چیزیں بچوں کے مرنے یا ہمیشہ کا زخم دینے کی وجہ بن سکتی ہیں۔

بہت سی زہریلی اشیاء، موت، ذہن کو نقصان پہنچانے، اندھے پن یا مستقل زخم کی وجہ بن سکتی ہیں، اگر انہیں:

• نگل لیا جائے۔ • سانس کے ذریعے اندر لے جایا جائے۔ • جِلد میں داخل کیا جائے۔ • آنکھوں میں ڈال لیا جائے۔ زہریلی اشیا سے روک تھام کا حل یہ ہے کہ نقصان دہ سفوف یا محلول کوبچوں کی پہنچ سے دور رکھا جائے۔ • زہریلی اشیاء کو کبھی بھی کولڈڈرنک یا شربت کی بوتلوں،جارز یاپیالیوں میں نہیں رکھنا،چاہئیے کیوں کہ بچے اسے غلطی سے پی سکتے ہیں۔ تمام دواؤں، کیمیائی محلولوں یا زہریلی اشیاء کو ان کے اپنے ڈبوں یا بوتلوں میں ہی رکھنا،چاہئیے اور ان کے ڈھکن اچھی طرح بندکرکے انہیں بچوں کی پہنچ سے دور رکھنا،چاہئیے۔ • صفائی ستھرائی میں استعمال ہونے والی مائع چیزوں،بلیچ،کیمیائی اجزاء اور دواؤں کو کبھی ایسی جگہ پر نہیں چھوڑنا ،چاہئیے جہاں بچوں کی رسائی ممکن ہو۔ انہیں اچھی طرح بندکرکے اور اس پر لیبل لگا کر رکھنا ،چاہئیے۔ انہیں کسی الماری یا صندوق میں تالہ لگا کر رکھنا،چاہئیے یا کسی ایسی اونیچ شیلف میں رکھنا،چاہئیے جہاں سے بچے اس نہ دیکھ سکیں یا ان تک رسائی حاصل نہ کرسکیں۔ • بالغوں کے استعمال میں آنے والی دوائیں چھوٹے بچوں کومارسکتی ہیں یا انہیں زخمی کرسکتی ہیں۔ صرف وہی دوائیں بچوں کودینی چاہئیں جنہیں ان بچوں ہی کے لئے تشخیص کیاگیا ہو۔اگر یہ دوائیں کسی بالغ یا کسی اور بچے کے لئے تشخیص کی گئی ہیں تو پھرکسی اور بچے کو یہ دوائیں نہیں دی جانی چاہئیں۔ والدین اور دیکھ بھال کرنے والے کو ،چاہئیے کہ جب بھی بچے کو ضرورت ہو وہ اسے دوا فراہم کریں۔ دوائیں کو بچوں کی پہنچ اورنظرسے دور رکھنا ،چاہئیے۔ • جہاں کہیں دستیاب ہوں، بچوں سے محفوظ رہنے والے ڈھکن زہریلے محلول کے ڈبوں پر استعمال کرنے چاہئیں۔

زہریلی اشیاء کے استعمال کے بارے میں ابتدائی طبی امداد کے لئے، اس باب کے اختتام کی طرف ریفر کریں۔

The Internet of Good Things