زبان: اردو

جہاں کہیں ملیریا موجود ہو، بچوں کے لئے خطرہ ہوتا ہے۔ اگر کسی بچے کو بخار ہو تو اس کا فوری طور پر کسی تربیت یافتہ کارکن صحت سے معائنہ کروانا چاہئیے اور اگر ملیریا تشخیص ہو جائے تو جتنا جلد ممکن ہو سکے

جہاں کہیں ملیریا موجود ہو، بچوں کے لئے خطرہ ہوتا ہے۔ اگر کسی بچے کو بخار ہو تو اس کا فوری طور پر کسی تربیت یافتہ کارکن صحت سے معائنہ کروانا چاہئیے اور اگر ملیریا تشخیص ہو جائے تو جتنا جلد ممکن ہو سکے ملیریا کے خلاف موزوں علاج حاصل کرنا چاہئیے۔ پلاسموڈیم فالسی پارم (Plasmodium falciparum) ملیریا کے علاج کے لئے عالمی ادارہ صحت نے آرٹیمیسینن (Artemisinin)پر مبنی مشترکہ علاج کے طریقے تجویز کئے ہیں۔ یہ ملیریا کی سب سے زیادہ سنگین قسم ہے جو ملیریا سے ہونے والی تقریباً تمام اموات کی وجہ بنتی ہے۔

جب گھر کے کسی فرد کو بخارہو، یا اگر کوئی چھوٹا بچے کھانے سے انکار کرے یا قے کرے، اسے دست آرہے ہوں، سست ہو اور اسے دورے پڑ رہے ہوں، تو ملیریا کا گما ن کرنا چاہئیے۔

ایک ایسا بچہ جسے بخار ہے اور ملیریا ہونے کا اندیشہ ہے، اسے فوری طور پر کسی تربیت یافتہ کارکن صحت یا ڈاکٹر کے تجویز کردہ ملیریا کے خلاف علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ممکن ہو، توملیریاانفیکشن کی تصدیق کے لئے بچے کا فوری تشخیصی ٹیسٹ (Rapid Diagnostic Test)یا مائیکرواسکوپی (مائیکرو اسکوپ کے نیچے اس فرد کے خون کا معائنے پر مبنی لیبارٹری میں تشخیص) کروانی چاہئیے۔ یہ تشخیصی ٹیسٹ مہنگانہیں ہے اور آسانی سے دستیاب ہے۔

اگر ملیریا بخارکے بچے کا ایک روزکے اندر اندر علاج نہ کروایا جائے تو اس بچی (یا بچے) کی موت واقع ہو سکتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت پلاسموڈیم فالسی پارم ملیریا کے علاج کے لئے تشخیصی ٹیسٹ کی سفارش کرتا ہے۔ ایک تربیت یافتہ کارکن صحت یا ڈاکٹر یہ مشورہ دے سکتا / سکتی ہے کہ کس قسم کا تشخیصی ٹیسٹ علاج کے لئے بہترین ہے اور قومی رہنما اصولوں کی روشنی میں اس میں کتنا وقت لگ سکتا ہے۔

ملیریا سے عموماً تیز بخارہو جاتا ہے اور مریض کو سردی لگتی ہے۔ ایک ایسے بچے کے جسم کو جسے تیز بخار ہو، اس وقت تک ٹھنڈا رکھنا چاہئیے جب تک کہ اس کا بخار اتر نہ جائے۔ ایسا کرنے کے لئے:

• بچے کا جسم نیم گرم (ٹھنڈے، یخ نہیں ) پانی میں بھیگے تولیے سے صاف کریں یا نہلائیں۔ • بخار توڑنے والی گولیاں (دوائیں جو بخار کو روکتی یا کم کرتی ہیں ) دیں، جیسا کہ پیراسیٹا مول یا آئیبو پروفین، لیکن اسپرین نہیں۔

بخار کو بہت زیادہ تیز نہ ہونے دینا،دوروں کو روکنے کے لئے بہت اہم ہے جو کسی معذوری کی وجہ بن سکتے ہیں۔

ملیریا کے شکار بچے کو علاج کا مکملکورس کروانا چاہئیے، چاہے اس کا بخاراچانک اتر بھی جائے۔ اگر علاج مکمل نہ کیا گیا،تو ملیریا زیادہ شدید اور اس کا علاج مشکل ہو سکتا ہے۔ نامکمل علاج مقامی علاقے کے لوگوں میں دوا کے خلاف مزاحمت پیدا کر سکتا ہے۔

اگر علاج کے بعد ملیریا کی علامات باقی رہ جائیں، تو بچے کو مرکز صحت یا اسپتال لے جانا چاہئیے۔ یہ مسئلہ کچھ اس قسم کا ہو سکتا ہے:

• بچے کو کافی دوائیں نہیں مل رہی ہیں۔ • بچے کوملیریا نہیں ہے بلکہ کوئی اور مرض لاحق ہے۔ • ملیریا دوا کے خلاف مزاحمت کر رہا ہے، اور کوئی دوا دینے کی ضرورت ہے۔

حفظان صحت کی سہولتیں فراہم کرنے والوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ والدین اور دیکھ بھال کرنے والے افرادملیریا کے خاتمے کے طریقوں سے آگہی رکھتے ہیں اور ملیریا کے شکار بچے کی بہترین دیکھ بھال کی عادات سے واقف ہیں۔

The Internet of Good Things