زبان: اردو

ملیریا حاملہ عورتوں کے لئے بہت خطرناک ہے۔ جہاں کہیں ملیریا عام ہے، انہیں ملیریا کے خلاف تربیت یافتہ کارکن صحت کی جانب سے تجویز کردہ گولیاں لے کراور مچھر مار دوا چھڑکی ہوئی مچھر دانی میں سو کر ملیریا

ملیریا حاملہ عورتوں کے لئے بہت خطرناک ہے۔ جہاں کہیں ملیریا عام ہے، انہیں ملیریا کے خلاف تربیت یافتہ کارکن صحت کی جانب سے تجویز کردہ گولیاں لے کراور مچھر مار دوا چھڑکی ہوئی مچھر دانی میں سو کر ملیریا کو روکنا چاہئیے۔

دیگر عورتوں کی نسبت حاملہ عورتوں کو ملیریا ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔ یہ مرض دوران حمل، خصوصاً پہلے حمل کے دوران، زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے۔ ایسا عورت کے جسم میں پیداہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے ہوتا ہے جو ملیریا کے خلاف اس کی سابقہ مزاحمت کی سطح کو کم کر دیتی ہیں۔ ملیریا خون کی شدید کمی (خون کو پتلا کرنا)، اسقاط حمل، قبل از وقت پیدائش یا مردہ بچہ پیدا ہونے کی وجہ بن سکتا ہے۔

ان ماؤں کے ہاں پیدا ہونے والے بچے، جنہیں دوران حمل ملیریا لاحق ہو گیا تھا، اکثر کم وزن پیدا ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے وہ انفیکشن کے خلاف زیادہ ناتواں ہوتے ہیں یا پہلے سال کے دوران موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

ملیریا کے لئے مشہور علاقوں میں رہنے والی عورتوں میں پہلے حمل کے دوران ملیریا کی مخصوص علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔

احتیاطی علاج کے طور پر، ملیریا والے علاقوں میں رہنے والی حاملہ عورتیں، خصوصاً وہ جو اپنے پہلے حمل میں ہیں اور جن میں ملیریا کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں، انہیں کسی تربیت یافتہ کارکن صحت کی تجویز پر مخصوم ایام کے دوسرے یا تیسرے سیشن میں اینٹی ملیریا گولیاں لینی چاہئیں۔ کارکن صحت کو یہ معلوم ہو گا کہ کون سی اینٹی ملیریا گولیاں ان کے لئے بہترین ہوں گی۔

یہ بات بہت اہم ہے کہ حاملہ عورتیں مچھر ماردوا چھڑکی ہوئی مچھردانیوں میں سوئیں۔

پلاسموڈیم فالسی پارم ملیریا کی علامات کی حامل عورتوں کو لازمی طور پر فوراً کسی تربیت یافتہ کارکن صحت سے علاج کرواتے ہوئے مخصوص ایام کے پہلے سیشن میں کونین لینی چاہئیے اور دوسرے اور تیسرے سیشن میں ملیریا کا تشخیصی ٹیسٹ کروانا چاہئیے۔

The Internet of Good Things