زبان: اردو

ملیریا کے بارے میں معلومات کو تقسیم کرنا اور اس پر عمل کرنا کیوں اہم ہے

ملیریا کے بارے میں معلومات کو تقسیم کرنا اور اس پر عمل کرنا کیوں اہم ہے

ملیریا ایک سنگین مرض ہے جو مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ 2006 میں 25کروڑافراد ملیریا کا شکار ہوئے جس کے نتیجے میں تقریباً 10لاکھ اموات واقع ہوئیں۔ ملیریا کی وجہ سے ہونے والی اموات کی تقریباً 90فی صد سب صحرائی افریقہ میں ہوئیں، جن میں زیادہ تر تعداد 5سال سے کم عمر بچوں کی تھی۔

ملیریا دنیا کے بہت سے خطوں میں پایا جاتا ہے۔ سب صحرائی افریقہ میں یہ چھوٹے بچوں میں موت، بیماری، اور خراب ذہنی و جسمانی نشوونماء کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس علاقے میں ہر 30سیکنڈ میں ایک بچہ ملیریا کی وجہ سے موت کا شکارہو جاتاہے۔

ملیریا خصوصاً حاملہ عورتوں کے لئے خطرناک ہے۔ ہر سال 5 کروڑ حاملہ عورتوں کو ملیریا کا سامنا ہوتا ہے۔ دوران حمل ملیریا ہونے سے وبائی علاقوں میں تقریباً 20 فی صد بچے کم وزن پیدا ہوتے ہیں، جب کہ کچھ بچے خون کی کمی کے ساتھ اور کچھ بچے مردہ پیدا ہوتے ہیں جب کہ کچھ کیسوں میں ماں کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

ملیریا ایک خاص قسم کےAnophelesمچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔ مچھر ملیریا کے طفیلی جراثیمپلاسموڈیم (Plasmodium)ایک فرد سے دوسرے فرد میں منتقل کر دیتا ہے۔ لوگ بہت زیادہ بیمار ہوجاتے ہیں اور انہیں تیز بخار، دستوں کی بیماری، قے، سردرد، سردی لگناشروع ہوجاتی ہے اور فلو جیسی حالت ہو جاتی ہے۔ خصوصاً بچوں میں، یہ مرض تیزی سے بگڑسکتا ہے، اور بچہ قومے میں جا سکتا ہے اور مر سکتا ہے۔ 5سال سے کم عمر کے بچوں کو ملیریا ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں کیوں کہ ان کی قوت مدافعت بہت کم ہوتی ہے۔

ملیریا کی روک تھام اور اس کے جلد علاج کے ذریعے بہت سے جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ بچوں اور ان کے خاندان کے ارکان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ فوری اور موثر علاج اور ملیریا کی روک تھام کے لئے حفظان صحت کی معیاری سہولتیں حاصل کرسکیں۔

حکومت، کمیونٹیوں اور غیر سرکاری اور کمیونٹی پر مبنی تنظیموں کے تعاون سے ملیریا کے کیسوں کی تعداد میں کمی کر سکتی ہے۔ انہیں ملیریا کی روک تھام کے لئے عملی اقدام کی حمایت کرنے کی ضرورت ہے، جیسا کہ خاندانوں کو مچھروں سے محفوظ رہ کر سونے کے لئے مچھر ماردوا چھڑکی ہوئی مچھردانیوں کی تقسیم۔

The Internet of Good Things