زبان: اردو

بیمار بچوں کی اضافی غذائی دیکھ بھال.

بیمار بچوں کی اضافی غذائی دیکھ بھال.

جب بچے بیمارہوں، جیسا کہ انہیں دستوں کی بیماری ، خسرہ یا نمونیہ ہو تو ان کی بھوک کم ہوجاتی ہے اور ان کا جسم کم موثر انداز میں خورا ک کو استعمال کرتا ہے۔ اگر بچہ سال میں کئی مرتبہ بیمار پڑتا ہے، تو اس بچے (یا بچی) کی افزائش سست ہوجاتی یا رک جاتی ہے۔

یہ بات بہت اہم ہے کہ کھانے کے لئے بیمار بچے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ یہ کام مشکل ہو سکتا ہے، کیوں کہ جو بچے بیمار ہیں انہیں بھوک نہیں لگ رہی ہو گی۔ والدین یا دیکھ بھال کرنے والے دیگر افراد کو چاہیے کہ وہ بچے کووہ غذائیں پیش کرنا جاری رکھیں جو وہ پسند کرتا ہے، کسی وقت بالکل تھوڑی سی اور جتنی زیادہ مرتبہ ممکن ہو سکے۔ ماں کا دودھ زیادہ مرتبہ پلانا بھی خاص طور پر اہم ہوگا کیوں کہ انفیکشنز سے ضائع ہونے والی توانائی کی بحالی کے لئے یہ دودھ ضروری غذائیت فراہم کر سکتا ہے۔

بیمار بچے کو پینے کی چیزیں زیادہ سے زیادہ استعمال کرانے کی حوصلہ افزائی کریں۔ نمکیات کی کمی (جسم میں مائع کی کمی) دستوں کی بیماری کے شکار بچوں کے لئے ایک سنگین مسئلہ ہے۔ پینے کی بہت سی چیزیں دینے سے جسم میں نمکیات کی کمی کو پورا کرنے میں مدد ملتی ہے۔ جب بچے کو دستوں کی بیماری ہو جائے، تو کھانے اور پینے کی دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ اوآر ایس (ORS)کے سفوف کو پینے کے صاف پانی میں حل کرکے پلانے سے جسم میں نمکیات کی کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے۔بچے کو 14-10دن تک زنک کی اضافی خوراک دینے سے دستوں کی بیماری کی شدت میں کمی پیدا کی جا سکتی ہے۔ اس وقت تک بچے کو کسی بیماری کے بعد مکمل طور پر صحت یاب تصور نہیں کر سکتے جب تک کہ وہ وہی وزن حاصل نہ کرلے جو بیمار ہونے سے پہلے اس کا تھا۔

ایک بچہ جسے فوری علاج فراہم نہ کیا جائے وہ دستوںکی مسلسل بیماری سے مر سکتا ہے۔ اگر دستوں کی بیماری اور بھوک کی کمی چند روز سے زائد تک برقرار رہیں تو ماں، باپ اور دیکھ بھال کرنے والے دیگر افراد کو فوری طور پر کسی تربیت یافتہ کارکن صحت سے مشورہ کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

The Internet of Good Things