زبان: اردو

غذائیت اور افزائش کی اہمیت

غذائیت اور افزائش کی اہمیت

دنیا بھر میں ہر سال ہونے والی بچوں کی اموات میں سے ایک تہائی اموات کی وجہ خوراک کی کمی، خصوصاً غذائیت کی کمی، بتائی جاتی ہے جس کی وجہ سے بچے کا جسم کمزور ہو جاتا ہے اور وہ امراض کے خلاف مدافعت نہیں کر پاتا۔

اگر کوئی عورت دوران حمل خوراک کی کمی کا شکار ہے یا اگر اس کا بچہ زندگی کے پہلے دو برسوں کے دوران غذائیت کی کمی کا شکار ہے تو بچے کی جسمانی و ذہنی نشوونماء اور بالیدگی سست ہوجائے گی۔ بچے کے بڑے ہو جانے کے بعد اس کی درستگی نہیں ہو سکے گی- یہ بچے (یا بچی) کی باقی ماندہ زندگی کو متاثر کرے گی۔

خوراک کی کمی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم کو موزوں مقدار میں توانائی (کلوریز)، پروٹینز، کاربوہائیڈریٹس، چربی، وٹامنز، منرلز اور غذائیت کے وہ اجزاء حاصل نہیں ہوتے جو جسم کے اعضاء اور ٹشوز کو صحت مند اوراچھی طرح کارآمد رکھتے ہیں۔ غذائیت کی کمی یا زیادتی کی وجہ سے کوئی بھی بچہ یا بالغ خوراک کی کمی کا شکار ہو سکتا ہے۔

دنیا کے بہت سے حصوں میں خوراک کی کمی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب لوگوں کو غذائیت سے بھرپور غذا میسر نہیں آتی۔ غذائیت میں کمی کی، خصوصاً بچوں اور عورتوں میں، بنیادی وجہ غربت، کھانے کی چیزوں کی کمی، باربار بیمار پڑنا، فیڈنگ کی غیر موزوں عادات، دیکھ بھال میں کمی، اور صفائی ستھرائی کی خراب صورت حال ہے۔ غذائیت میں کمی ، خوراک کی کمی کے خطرات میں اضافہ کرتی ہے۔ یہ خطرہ زندگی کے پہلے دو برسوں کے دوران زیادہ ہوتا ہے۔ یہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب دستوں کی بیماری اور دیگر امراض جسم کوصحت مند رکھنے کے لئے ضروری پروٹینز، منرلز، اور غذائی اجزاء سے خالی کردیتے ہیں۔

جب کسی گھر میں کھانے کی کافی چیزیں نہ ہوں اور دستوں کی بیماری اور دیگر عام امراض پیدا ہونے کے حالات موجود ہوں، تو بچے خوراک کی کمی کا شکار ہونے کے لئے زیادہ ناتواں ہوتے ہیں۔ جب بچے بیمار پڑ جائیں، تو وہ بڑی تیزی سے توانائی اور غذائیت کھو دیتے ہیں، جو بالغوں کی نسبت ان کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔

جب کسی کا وزن بڑھ جائے یا کوئی موٹا پے کا شکار ہو جائے ، تو اسے غذائیت کی زیادتی کا شکار کہتے ہیں۔ یہ صورت حال بچپن میں ذیابیطس اور بلوغت میں امراض قلب یا دیگر امراض کا باعث بن سکتی ہے۔ کبھی کبھار بچے توانائی سے بھرپورخوراک کی بہت زیادہ مقدار کھا لیتے ہیںلیکن اس میں دیگر ضروری غذائی اجزاء نہیں ہوتے، جیسا کہ میٹھے مشروب یا فرائی شدہ سخت چیزیں ۔ ایسے واقعات میں بچے کی غذائیت کے معیار کو بہتر کرنے کے لئے اس بچے (یا بچی) کی جسمانی سرگرمیوں کی سطح میں اضافہ کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔

ایچ آئی وی جیسے سنگین امراض کا شکار بچوں میں خوراک کی کمی پیدا ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔ ان کے جسم کو وٹامنز، آئرن اور دیگر غذائی اجزاء کو ہضم کرنے میں بہت مشکل ہوتی ہے۔یہ یقینی بنانے کے لئے کہ معذوری کا شکار بچوں کو ضرورت کے مطابق وہ تمام غذائی اجزاء میسر ہیں ، ان پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

تمام لڑکیوں اور لڑکوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ماں، باپ، یا دیکھ بھال کرنے والے دیگر افراد کے ساتھ دیکھ بھال اور حفاظتی ماحول میں زندگی گزاریں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ انہیں صحت مند غذا کے ساتھ ان کی غذائی ضروریات کو بھی اچھی طرح پورا کیا جا رہا ہے۔

The Internet of Good Things