زبان: اردو

پاکستان میں پولیو کے خاتمے سے متعلق اہم مسائل.

پاکستان میں پولیو کے خاتمے سے متعلق اہم مسائل.

رہ جانے والے بچے: تمام تر کوششوں کے باوجود بچوں کی ایک اچھی خاصی تعداد بہت سی وجوہات کی بنا پر پولیو کے قطروں سے محروم رہ جاتی ہے۔ یہ رہ جانے والے بچے ایک جگہ سے دوسری جگہ پولیو کے وائرس کی منتقلی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اس لئے کہ یا تو وائرس ان کے ساتھ سفر کرتا ہے یا پھر وہ ایسے علاقے میں پہنچ جاتے ہیں جہاں پہلے ہی سے پولیو وائرس گردش میں ہوتا ہے۔

والدین اور سرپرستوں کے لئے پیغام: مہربانی کر کے اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوائیں سفر میں جانے سے پہلے یا دوران میں۔ تاکہ آپ کے بچوں کو وائرس اور عمر بھر کی معذوری کے خلاف مناسب تحفظ فراہم ہوجائے ۔ انہیں ٹرانزٹ پوائنٹ پر قطرے پلوائیں یا پھر اپنا سفر شروع کر نے سے پہلے قریبی مرکز صحت سے پلوائیں۔

بار بار ہونے والی مہمیں: کچھ والدین بچوں کو پولیو کے قطرے پلوانے سے اس لئے انکار کردیتے ہیں کہ ان کا خیال ہوتا ہے کہ بار بار ہونے والی مہم میں ہر دفعہ بچوں کو قطرے پلوانا ضروری نہیں یا پھر ان کو پولیو ویکسین سے متعلق غلط فہمی ہوجاتی ہے ۔ بہت سے سرپرست یہ نہیں جانتے کہ کتنی تعداد میں قطروں کی ضرورت ہوتی ہے اور پاکستان میں بار بار ہونے والی مہموں کی وجہ سے اکثر ان کو شک ہو جاتا ہے کہ بار بار خوراکوں کی ضرورت سے متعلق۔ یا پھر یہ ہچکچاہٹ کہ ان کو لینا محفوظ ہے یا نہیں۔

والدین اور سر پرستوں کے لئے پیغام: یہ ضروری ہے کہ اس موذی مرض کے خلاف موثر تحفظ فراہم کر نے کےلئے آپ اپنے بچوں کو ہر بار ہونیوالی پولیو مہم میں پولیو کے قطرے پلوائیں کیونکہ کسی بچے میں اس بیماری کے خلاف مناسب مدافعت یا مزاحمت پیدا کر نے کےلئے ایک سے زائد خوراکوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ہر بچے کو ہر بار ہونے والی پولیو مہم میں پولیو کے قطرے پینے چاہیں تاکہ ان کے جسم کی پولیو کے خلاف تحفظ کی قاببلیت کو بہتر بنایا جائے (اور جتنا جلدی ممکن ہوسکے اتنا بہتر ہے ) یہ بھی ضروری ہے کہ بچہ پولیو کے قطروں سے محروم نہ رہ جائے کیونکہ اس طرح اس کے اس بیماری سے بیمار ہونے کے مواقع بڑھ جاتے ہیں۔

The Internet of Good Things