زبان: اردو

پیدائش کے فوری بعد دیکھ بھال ماں اور بچے کو درپیش ممکنہ پیچیدگیوں کے خطرے کو کم کرتی ہے اور ماں، باپ یا دیکھ بھال کرنے والے دیگر افراد کو نئے بچے کے لئے ایک صحت مند زندگی کے آغاز میں مدد دیتی ہے۔ماں

پیدائش کے فوری بعد دیکھ بھال ماں اور بچے کو درپیش ممکنہ پیچیدگیوں کے خطرے کو کم کرتی ہے اور ماں، باپ یا دیکھ بھال کرنے والے دیگر افراد کو نئے بچے کے لئے ایک صحت مند زندگی کے آغاز میں مدد دیتی ہے۔ماں اور اس کے بچے کو بچے کی پیدائش کے بعد 24گھنٹوں کے دوران،پہلے ہفتے کے دوران،اور پھردوبارہ چھ ہفتوں بعد، باقاعدگی سے چیک کیاجانا چاہئیے۔ اگر پیچیدگیاں پائی جائیں تو باربار چیک اپ کروانا ضروری ہے۔

ماں اور اس کے نوزائیدہ بچے کی بقاء اور صحت کو یقینی بنانے میں مدددینے کے لئے ایک ماہر دایہ یا مڈوائف کی مدد کے ساتھ بعدازپیدائش دیکھ بھال اہم ہے۔ بچے کی پیدائش کے بعد ابتدائی گھنٹوں میں اور زندگی کے پہلے ہفتے میں نوزائیدہ بچے خصوصاً بہت ناتواں ہوتے ہیں۔

بچے کی پیدائش کے بعد ماہر دایہ یا مڈوائف یہ کرے گی، کہ:

• پیدائش کے پہلے 24گھنٹوں کے دوران، پہلے ہفتے کے دوران، اور پھر پیدائش کے چھ ہفتوں کے بعد ماں اوربچے کی صحت کا باقاعدگی سے معائنہ کرے • ماں کو مشورہ اور مدد دے کہ کس طرح بچے کو اپنا دودھ پلانا جاری رکھناہے • نئے والدین کو یہ مشورہ دے کہ کس طرح ایک اور بچے کی پیدائش کو روکنا یا اس میں تاخیر کرنی ہے • ماں کو غذا، آرام، صفائی ستھرائی، حفاظتی ٹیکوں، ملیریا زدہ علاقوں میں مچھر دانی لگا کرسونے، صحت کے لئے باقاعدگی سے چیک اپ کرانے اور خود اپنی اور اپنے بچے کی دیکھ بھال کیسے کرنی ہے کے بارے میں مشورہ دے؛ باپ کو مشورہ دے کہ ماں اور بچے کی ان ضروریات کو پورا کرنے میں معاونت کرے • ماں اور بچے کو درپیش ممکنہ خطرے کی علامات کی وضاحت کرے • پیچیدگیاں پیدا ہونے کی صورت میں ہنگامی منصوبہ بنانے میں ماں، باپ اور خاندان کے افراد کی مددکرے • ماں اور باپ کو ایچ آئی وی سمیت جنسی بیماریوں کے بارے میں مشورہ دے،اور اگر وہ ایچ آئی وی سے متاثرہیں توانہیں بتائے کہ انہوں نے اپنا اور اپنے بچے کا کیسے خیال رکھنا ہے اور بچے کو اپنا دودھ پلانے کا عمل کس طرح انجام دیناہے کہ بچے کو انفیکشن کی منتقلی کے خطرے کو کم کیا جا سکے • ایچ آئی وی مثبت ماں اور اس کے ساتھی کو مشاورت فراہم کرتے ہوئے انہیں مستقبل کے حمل اور مانع حمل طریقوں کے بارے میں موجودترجیحات کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کرنے میں مددکرے (مزید معلومات کے لئے ایچ آئی وی کا باب ریفر کریں ) • ماں اور بچے کے لئے اگلے فالو اپ وزٹ کے لئے وقت طے کرے۔ پیچیدگیوں کا شکارماں اور /یا بچے کے لئے، ماہر دایہ یا مڈوائف یہ کرے گی،کہ: • ماں کو اس کی اور اس کے بچے کی پیچیدگیوں اور ان کو حاصل ہونے والے علاج کے بارے وضاحت کرے اور بتائے کہ وہ گھر پر اپنی اور اپنے بچے کی دیکھ بھال کس طرح جاری رکھ سکتی ہے • اگر ضروری ہو تو ماں کو دوائیں فراہم کرے اور اسے ہدایات دے کہ انہیں کیسے،کہاں اور کتنے عرصے تک استعمال کرناہے • ٹیٹانس ٹاکسائیڈ سمیت ان تمام حفاظتی ٹیکوں کی نشان دہی کرے جو نہیں لگوائے جا سکے اور اس کمی کو پورا کرے • اگر بچہ بہت جلد پیدا ہو جائے یا بہت چھوٹاہو،یا کوئی اور کمی رہ جائے تو ماں اور باپ یا دیکھ بھال کرنے والے دیگر افراد کو مشورہ دے کہ اس بچے کی بہترین دیکھ بھال کس طرح کرنی ہے • ماں اور اس کے بچے کی صحت کا تجزیہ کرنے کے لئے بار بار فالو اپ وزٹس طے کرے۔

کم وزن پیدا ہونے والے بچوں کے لئے ابتدائی دن اور ہفتے خاص طور پر خطرناک ہوتے ہیں۔ نوزائیدہ بچوں میں زیادہ تر اموات کم وزن بچوں کی ہوتی ہیں۔ ان بچوں میں بہت سی اموات سے بعد از پیدائش دیکھ بھال فراہم کرتے ہوئے بچا جا سکتاہے جس کے لئے ایک ماہر دایہ یا مڈوائف کویہ کرنا ہوگا،کہ:

• خطر ے کی علامات کی بروقت نشان دہی کرے اور ان کا سد باب کرے • اپنے ہاتھ سے اپنادودھ نکالنے اور پیالی سے دودھ پلانے سمیت بچے کو ماں کا دودھ پلانے میں اضافی مددفراہم کرے • اس بات کویقینی بنانے کے لئے کہ بچے کا جسم گرم ہے، جِلد سے جِلد دیکھ بھال جسے ’کینگروماں کی دیکھ بھال‘ کے طریقے کے طور پر بھی جانا جاتا ہے، میں ماں یا دیکھ بھال کرنے والے دیگر فرد کی مدد کرے • اگرشیرخوار بچہ ماں کا دودھ پینے سے قاصر ہے یا ماں کا ہاتھ سے نکالا گیا دودھ نہیں پیتا توبچے کو ہنگامی دیکھ بھال کے لئے ریفر کرے۔

The Internet of Good Things