زبان: اردو

ہر حمل بہت خاص ہوتا ہے۔ ایک محفوظ اور صحت مند حمل کو یقینی بنانے کے لئے تمام حاملہ عورتوں کوقبل از پیدائش دیکھ بھال کے لئے کم از کم چار مرتبہ کسی مرکز صحت جانے کی ضرورت ہے۔ حاملہ عورتوں اور ان کے خان

ہر حمل بہت خاص ہوتا ہے۔ ایک محفوظ اور صحت مند حمل کو یقینی بنانے کے لئے تمام حاملہ عورتوں کوقبل از پیدائش دیکھ بھال کے لئے کم از کم چار مرتبہ کسی مرکز صحت جانے کی ضرورت ہے۔ حاملہ عورتوں اور ان کے خاندان کے لوگوں کو اس قا بل ہونا چاہئیے کہ درد زہ کی علامات اور حمل کی پیچیدگیوں کے خطرے کی علامات کو پہچان سکیں۔ انہیں بچے کی پیدائش کے لئے ماہرانہ دیکھ بھال حاصل کرنے اور اگر مسائل سامنے آئیں تو فوری مددکے حصول کے لئے منصوبہ بنانے اور وسائل کا انتظام کرنے کی ضرورت ہے۔

جب کوئی نوجوان عورت قربت کے تعلقات کا آغازکرتی ہے، تو اسے حمل اورایچ آئی وی سمیت جنسی بیماریوں کے بارے میں معلومات کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسے اس قابل ہونا چاہئیے کہ وہ حمل کی ابتدائی علامات کو پہچان سکے۔ اگر وہ حاملہ ہوجائے، تو اسے حمل کے ابتدائی عرصے میں کسی تربیت یافتہ کارکن صحت یا ڈاکٹر کی جانب سے قبل از پیدائش دیکھ بھال کی حمایت کرنی چاہئیے۔ اسے حمل کے نارمل مراحل اور اس بارے میں آگہی حاصل کر لینی چاہئیے کہ دوران حمل اپنے آپ اور اپنے بچے کو کس طرح صحت مند رکھنا ہے۔ اسے حمل کی سنگین پیچیدگیوں کی خطرناک علامات کے بارے میں آگہی کی ضرورت ہے۔

ایک حاملہ عورت کو ہر حمل کے دوران قبل از پیدائش کم از کم چار مرتبہ کسی تربیت یافتہ کارکن صحت یا ڈاکٹر کو وزٹ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ قبل از پیدائش پہلا وزٹ جتنی جلد ممکن ہو سکے، اور اگر یہ حمل ٹھہرنے کے پہلے تین ماہ کے دوران کیا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا، دیگر تین وزٹس حمل کے باقی ماندہ دورانیے میں پہلے سے طے شدہ اوقات کے حساب سے عمل میں لانے چاہئیے۔

محفوظ اورصحت مندحمل کو یقینی بنانے کے لئے، ایک تربیت یافتہ کارکن صحت یا ماہر دایہ کو چاہئیے کہ وہ:

• حاملہ عورت کو ان تبدیلیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرے جو اس کے بچے میں پیدا ہو رہی ہیں • بلڈ پریشر چیک کرے، جو ماں اور بچے دونوں کے لئے خطرناک ہو سکتاہے • خون کی کمی چیک کرے اور آئرن-فولک ایسڈ کی اضافی خوراک دے، اس بات کو یقینی بنائے کہ عورت اس اضافی خوراک کی اہمیت کو سمجھتی ہے اور قبض اور متلی سمیت اس کے نارمل اثرات کی وضاحت کر سکتی ہے • یہ طے کرنے کے لئے کہ کیاعورت کو وٹامن ’اے‘ کی ضرورت ہے اسے رات کے اندھے پن کی لئے اسکرین کرے اور،اگر ضروری ہو، تو ماں کو تحفظ فراہم کرنے اور جنین کی صحت مند نشوونماء کے لئے وٹامن ’اے‘ تشخیص کرے • ماں کی تشنج کے خلاف حفاظتی ٹیکوں کی صورت حال کا جائزہ لے اور اسے اور اس کے نوزائیدہ بچے کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے ایک یا ضروری خوراکیں دے • کھاناتیار کرنے میں صرف آیوڈین ملانمک استعمال کرنے میں تمام حاملہ عورتوں کی حوصلہ افزائی کرے تاکہ ان کے بچوں کو ذہنی و جسمانی معذوریوں سے تحفظ فراہم کیا جا سکے اور خود انہیں گلہڑ سے تحفظ مل سکے • زیادہ غذائیت سے بھرپور کھانے، خوراک کی زیادہ مقدار کے استعمال اور عام حالت کی نسبت زیادہ آرام کرنے کے لئے تمام حاملہ عورتوں کی حوصلہ افزائی کرے • اینٹی ملیریا گولیاں تشخیص کرے اور جہاں ضرورت ہو وہاں مچھر دانیاں استعمال کرنے کی سفارش کرے • حمل کی دوسری سہ ماہی کے دوران اور اس کے بعد بھی، ضرورت کے مطابق، خون چوسنے والے کیڑوں کے خاتمے کے لئے دوا تجویز کرے تاکہ بچوں کی کم وزن پیدائش پر قابو پایا جا سکے • ماں اور باپ کو بچے کی پیدائش کے مرحلے سے گزرنے اور اپنے نوزائیدہ بچے کی دیکھ بھال کے لئے تیار کرے، ماں کو بچے کو اپنا دودھ پلانے اور خود اپنا خیال رکھنے کے بارے میں مشورہ دے، اور باپ کی رہنمائی کرے کہ وہ کیسے ان کاموں میں مدد دے سکتاہے • حاملہ عورت اور اس کے گھروالوں کو یہ مشورہ دے کہ بچے کی پیدائش کس جگہ ہونی چاہئیے اور اگر بچے کی پیدائش سے پہلے اور اس کے دوران یا پیدائش کے فوری بعد کوئی پیچیدگیاں پیدا ہوں تو کیسے مدد حاصل کی جاسکتی ہے • تشدد کے ساتھ زندگی بسر کرنے والی حاملہ عورتوں کو مدد اور تحفظ فراہم کرنے والی کمیونٹی کے گروپس کوضرورت کے مطابق ریفرل فراہم کرے • یہ مشورہ دے کہ ایچ آئی وی سمیت جنسی بیماریوں سے کیسے بچا جا سکتا ہے • دوران حمل انفیکشنز کے لئے معائنہ کرے، خاص طور پر پیشاب کی نالی میں انفیکشنزاور ایچ آئی سمیت جنسی بیماریوں کے لئے، اور موزوں دواؤں سے اس کا علاج کرے • رضاکارانہ اور رازدارانہ ایچ آئی وی ٹیسٹنگ اور مشاورت فراہم کرے۔

ایچ آئی وی مثبت حاملہ عورت کو ایک تربیت یافتہ کارکن صحت یا ڈاکٹر سے یہ مشورہ کرناچاہئیے کہ دوران حمل اپنے بچے کو لاحق انفیکشن کے خطرے کو کیسے کم کرناہے، بچے کی پیدائش کہاں کروانی چاہئیے اور بچے کو ماں کا دودھ کیسے پلانا اور خود اپنی اور اپنے بچے کی دیکھ بھال کیسے کرنی ہے۔ایک ایسی حاملہ عورت جو یہ سوچتی ہو کہ شاید وہ ایچ آئی وی سے متاثرہے،اسے ٹیسٹ کروانے اور مشاورت حاصل کرنے میں مدد دی جانی چاہئیے۔ ہونے والے باپ کا بھی ٹیسٹ کروانا چاہئیے اور اسے حسب ضرورت مشورہ دینا چاہئیے (مزید معلومات کے لئے ایچ آئی وی کا باب ریفر کریں )۔

ہر حاملہ عورت اور ہر خاندان کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ حمل اور بچے کی پیدائش میں خطرات کا سامنا ہو سکتاہے۔ انہیں اس قابل ہونا چاہئیے کہ وہ خطرے کی علامات کو پہچان سکیں۔

عام طورپر یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ عورتیں کسی مرکز صحت میں ہی کسی ماہر دایہ کی موجودگی میں بچے کو جنم دیں، کیوں کہ پیچیدگیوں کی پیشن گوئی نہیں کی جا سکتی۔ کچھ عورتوں کے لئے، یہ بات اور بھی اہم ہوتی ہے کیوں کہ پیچیدگیوں کے امکانات اس وقت اور زیادہ ہو جاتے ہیں، اگر:

• ان کی عمر 18سال سے کم اور 35سال سے زائد ہے • دوسال کے عرصے سے قبل بچے کوجنم دی چکی ہیں • پہلے کئی بار حاملہ رہ چکی ہیں • پہلے کسی قبل از وقت بچے یا 2کلوگرام سے کم وزن کے بچے کو جنم دے چکی ہیں • پہلے کسی مشکل پیدائش سے گزر چکی ہوں یا بڑے آپریشن سے بچے کو جنم دے چکی ہیں • پہلے کوئی حمل ضائع ہو چکا ہو یا مردہ بچے کو جنم دے چکی ہیں • ان کا وزن 38کلو گرام سے کم ہے • ان کا قد 1.5میٹر سے کم ہے • وہ infibulation یا ختنے کے عمل سے گزر چکی ہیں • وہ ایچ آئی وی یا کسی دیگر جنسی بیماری سے متاثر ہیں۔ ایک حاملہ عورت کو دردزہ کی علامات پہچاننے اور یہ جاننے میں مدد دینی چاہئیے کہ بچے کی پیدائش کے لئے کسی ماہر دایہ کو بچے کی پیدائش میں مدد دینے کے لئے کس وقت بلوانا ہے۔ دردزہ کی علامت درج ذیل میں کوئی بھی ہو سکتی ہے: • ہر 20منٹ یا اس سے کم وقفے سے رحم کی تکلیف دہ انداز میں سکڑنا • رک رک کر پانی آنا • خون آلود، لیس دار مادے کا اخراج۔ دوران حمل خطرے کی علامات میں درج ذیل شامل ہیں : • خون کی کمی (علامات میں زبان اور آنکھوں کا اندرسے زردی مائل ہونا، تھکاوٹ اور سانس کا اکھڑنا شامل ہیں ) • ٹانگوں، بازوؤں یا چہرے پر غیر معمولی سوجن • جنین میں بہت کم حرکت یا بالکل حرکت نہ ہونا۔ وہ علامات جن کامطلب یہ ہے کہ فوری مدد درکار ہے: • دھبے لگنایا اندام نہانی سے خون کا اخراج • سر میں شدید درد، دھندلا نظر آنا • جسم میں اکٹراہٹ (دورے) • پیٹ میں شدید درد • بخار یا کمزوری • تیز تیز سانس یا سانس لینے میں مشکل • درد زہ کا 12گھنٹے سے تجاوز کرنا

قبل از پیدائش وزٹس کے دوران، حاملہ عورت اور اس کے خاندان کی بچے کی پیدائش اور ممکنہ پیچیدگیوں کی تیاری میں ایک ایسا منصوبہ بناتے ہوئے مدددینی چاہئیے جو ان باتوں کی تشریح کرے، کہ:

• عورت بچے کو کہاں جنم دے گی اور اگر پیچیدگیاں پیداہوئیں تو وہ کہاں جائے گی • اس کے ساتھ کون جائے گا • اسے وہاں کیسے پہنچایا جائے گا • اسے اپنے لئے اور اپنے بچے کے لئے کیا کیا چیزیں اپنے ساتھ لے کر جانی ہوں گی • اس کام میں کتنی لاگت آئے گی اور اس کی ادائیگی کیسے کی جائے گی • پیدائش کے لئے مرکز صحت جانے کی صورت میں اس کے گھر والوں کا خیال کون رکھے گا • اگر ضرورت پڑی تو کون خون کا عطیہ دے سکے گا۔

چونکہ صورت حال میں تبدیلی واقع ہو سکتی ہے، اس لئے جوں جوں حمل کی عمر بڑھتی رہے گی، ہر قبل از پیدائش دیکھ بھال کے دوران ممکنہ پیچیدگیوں کے منصوبے میں تبدیلی کرنے پڑے گی اور اسے اپ ڈیٹ کرنا پڑے گا۔

پیچیدگیوں کی صورت میں ہنگامی صورت حال کے لئے منصوبے میں نزدیک ترین زچہ بچہ مرکز یا اسپتال کا محل وقوع اور عورت کو دن یا رات میں کسی بھی وقت وہاں فوری طور پرپہنچانے کے وسائل کی نشان دہی شامل ہونی چاہئیے۔

بچے کو جنم دینے کے لئے تمام حاملہ عورتوں کو کسی زچہ بچہ مرکز یا اسپتال تک رسائی حاصل ہونی چاہئیے۔ اگر عورت اور اس کے گھر والے جانتے ہیں کہ پیدائش میں مشکل پیش آسکتی ہے تو یہ بات خاص اہمیت اختیار کر جائے گی۔ کچھ کیسوں میں، جہاں فاصلہ اور / یا ممکنہ خطرناک پیدائش کے عوامل موجود ہوں، تو اس بات کو ترجیح دی جانی چاہئیے کہ ماں بننے والی حاملہ عورت کو پیدائش کی ممکنہ تاریخ نزدیک آنے پر کلینک یا اسپتال کے نزدیک کسی جگہ منتقل کردیا جائے تاکہ ضرورت پڑنے پر اسے فوری طور پر وہاں پہنچایا جا سکے۔

کارکنان صحت، خاندان کے افراد اور کمیونٹیوں کو حاملہ نوجوان بالغوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے کیوں کہ انہیں حمل کی پیچیدگیوں کا زیادہ خطرہ لاحق ہوتا ہے اور کچھ کیسوں میں انہیں خاندان کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے یا مدد طلب کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

The Internet of Good Things