زبان: اردو

ماں اور بچے دونوں کی صحت کی خاطر، ایک عورت کو دوبارہ حاملہ ہونے سے پہلے اس وقت تک انتظار کرنا چاہیے جب تک کہ اس کا آخری بچہ کم از کم 2سال کا نہ ہو جائے۔

ماں اور بچے دونوں کی صحت کی خاطر، ایک عورت کو دوبارہ حاملہ ہونے سے پہلے اس وقت تک انتظار کرنا چاہیے جب تک کہ اس کا آخری بچہ کم از کم 2سال کا نہ ہو جائے۔

اگر پیدائش میں وقفہ نہ ہو تو نوزائیدہ اور شیر خوار بچوں کے لئے موت کے خطرات میں خاطر خواہ اضافہ ہو جاتاہے۔ اس بات کا بہت زیادہ امکان ہوتا ہے کہ نیا بچہ قبل از وقت یا بہت کم وزن پیدا ہو۔ کم وزن بچوں کی اچھی افزائش کا بہت کم امکان ہوتا ہے، بیمار ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے، اور نارمل وزن کے بچوں کی نسبت ایسے بچوں کا زندگی کے پہلے سال میں مرنے کا چارگنا زیادہ امکان ہوتا ہے۔

دو سال سے کم عمر کے بچے کی صحت اور افزائش کو ایک خطرہ اس کے نئے بھائی یا بہن کی پیدائش ہوتا ہے۔ بڑے بچے کے لئے ماں کا دودھ بند ہو سکتا ہے اور ماں کے پاس اس کا کھانا تیار کرنے اور ضروری دیکھ بھال اور توجہ دینے کے لئے کم وقت ہو گا۔ جب کبھی کوئی نیا بچہ خاندان میں آتا ہے، تو باپ کے لئے یہ بات اہم ہوتی ہے کہ نئے بچے اور دیگر بچوں کو سنبھالنے میں ماں کی مدد کرے۔ ماں ، باپ اور دیکھ بھال کرنے والے دیگر افراد کو چاہیئے کہ وہ لڑکیوں اور لڑکوں دونوں پر برابر توجہ دیں اور ان کی ایک جیسی دیکھ بھال کریں ۔

ماں کے جسم کو حمل اور بچے کی پیدائش کے بعد مکمل طور پر بحال ہونے میں وقت درکار ہوتا ہے۔ اسے دوبارہ حاملہ ہوجانے سے پہلے اپنی صحت پر واپس آنے، غذائیت کی صورت حال بہتر کرنے اور توانائی بحال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر عورت کا حمل ضائع ہوجائے یا صفائی (abortion)کروانا پڑے، تو اسے دوبارہ حاملہ ہونے کے لئے کم از کم چھ ماہ انتظار کرنا چاہیئے تاکہ اسے اور اس کے بچے کو درپیش خطرے کو کم کیا جا سکے۔

اپنے خاندان کے افرادکی صحت کو تحفظ دینے کے لئے، مردوں اور ان کے ساتھ ساتھ عورتوں کو بھی ان اہم باتوں سے آگہی حاصل ہونی چاہیئے کہ:

(1) گزشہ بچے کی پیدائش اور اگلے حمل کے آغاز کے درمیان دوسال کا وقفہ ہونا چاہیئے؛ اور (2) حمل کی تعداد کو محدود کرنے کی ضرورت ہے۔

The Internet of Good Things