زبان: اردو

18سال سے کم اور 35سال سے زائد عمر میں ہونے والا حمل ماں اور اس کے بچے کی صحت کے لئے خطرات میں اضافہ کرتا ہے۔

18سال سے کم اور 35سال سے زائد عمر میں ہونے والا حمل ماں اور اس کے بچے کی صحت کے لئے خطرات میں اضافہ کرتا ہے۔

ہر سال 500,000 سے زائد عورتیں دوران حمل اور بچے کی پیدائش میں پیچیدگیوں کی وجہ سے مر جاتی ہیں ۔ مرجانے والی ہر عورت کے لئے تقریباً 20سے زائد عورتوں میں انفیکشز پیدا ہوجاتے ہیں اور وہ معذوری کے شدید مسائل کا شکار ہو جاتی ہیں ۔ اس طرح ہر سال ایک کروڑ سے زائد عورتیں متاثر ہوتی ہیں ۔ خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات تک رسائی اور ان کا استعمال ان میں سے بہت سی اموات اور معذوریوں کو روک سکتا ہے۔

پہلے حمل کو اس وقت تک روکنا جب تک کہ لڑکی کی عمر 18سال نہ ہو جائے ایک محفوظ حمل اور بچے کی پیدائش کو یقینی بنانے میں مدد دیتا ہے۔ یہ بچے کی قبل ازوقت پیدائش اور / یا کم وزن پیدائش کے خطرے کو کم کرتاہے۔ یہ خاص طورپر ان حالات میں اہم ہے جہاں کم عمری کی شادی کا رواج ہے اور شادی شدہ نوجوان بالغ لڑکیوں پر جلد سے جلد حاملہ ہونے کے دباؤ کا سامنا ہے۔

بچے کی پیدائش ایک بالغ کے مقابلے میں نوجوان بالغ کے لئے زیادہ مشکل اور خطرناک ہو سکتی ہے۔ بہت زیادہ کم عمر ماؤں کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کے زندگی کے پہلے ہی سال میں مرجانے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں ۔ نوجوان بالغ لڑکیوں کا پیڑو پوری طرح تیارنہیں ہو پاتا۔ ان کے لئے حمل سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے، جیسا کہ ایکلیمپسیا، قبل از وقت زچگی، زچگی میں تاخیر، زچگی میں رکاوٹ، ناسور، خون کی کمی (خون کا پتلاہونا) یا شیر خوار بچے اور /یا ماں کی موت۔

ماں جتنی زیادہ کم عمر ہو گی، اسے اور اس کے بچے کو اتنا ہی زیادہ خطرہ لاحق ہوگا۔ حمل اور بچے کی پیدائش کے متعلق ماں کو موت کے خطرے کے نتیجے میں 15سے 19سال کے درمیان عمر کی نوجوان بالغ لڑکیوں میں ہر سال تقریباً 70,000اموات واقع ہو جاتی ہیں ۔ 15سال سے کم عمرکی نوجوان بالغ لڑکیوں کے لئے ان خطرات میں بہت زیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔ 15سال کی عمر کی ان لڑکیوں کو بچے کے پیدائش میں ان عورتوں کی نسبت پانچ گنا خطرہ لاحق ہوتا ہے جن کی عمر 20سال سے زائد ہے۔ شادی شدہ یا غیر شادی شدہ نوجوان بالغ لڑکیوں اور نوجوان عورتوں کو حمل میں تاخیر کا رحجان اپنانے میں خصوصی مدد کی ضرورت ہے۔کم عمری کے حمل میں ملوث تمام ممکنہ افراد ، جیسا کہ نوجوان بالغ لڑکیوں ، نوجوان عورتوں ، نوجوان بالغ لڑکوں اور مرد کے علاوہ ان کے خاندانوں کو بھی کم عمری کے حمل کے خطرات سے آگہی ہونی چاہیئے اور یہ معلوم ہونا چاہیئے کہ اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔ اس عمل میں یہ معلومات بھی شامل ہونی چاہیئں کہ ایچ آئی وی سمیت جنسی بیماریوں سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔

35سال کی عمر کے بعد حمل اور بچے کی پیدائش سے متعلق خطرات میں دوبارہ اضافہ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ان خطرات میں عورت کے لئے ہائی بلڈ پریشر، جریان خون (خون کا اخراج)، حمل کا ضیاع، دوران حمل ذیابیطس اور بچے کے لئے پیدائشی معذوریاں شامل ہیں ۔

The Internet of Good Things